تیونس میں کشتی ڈوبنے سے تارکین وطن40 افریقی ہلاک،30کو بچالیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
تونس: تیونس کے ساحل کے قریب ایک کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں سب صحارا افریقہ سے تعلق رکھنے والے کم از کم 40 تارکین وطن ہلاک ہوگئے، جبکہ 30 کو بچا لیا گیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ مہدیہ کے پراسیکیوٹر آفس کے ترجمان ولید شتابری نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشتی پر 70 افراد سوار تھے۔حادثے کے بعد 40 لاشیں برآمد کی گئی ہیں، جن میں شیر خوار بچے بھی شامل ہیں، اور 30 افراد کو بچا لیا گیا، یہ تمام صحارا افریقہ کے ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔
تیونس ہر سال ہزاروں افریقی تارکین وطن کے لیے یورپ سمندر کے راستے پہنچنے کا ایک اہم گزرگاہ ہے، جس کا ساحل اطالوی جزیرے لیمپیڈوسا سے تقریباً 145 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے آغاز سے اب تک 55 ہزار سے زائد غیر قانونی تارکین وطن اٹلی پہنچ چکے ہیں۔ ان میں سے اکثریت نے سفر کا آغاز لیبیا سے کیا، جبکہ تقریباً 4 ہزار افراد تیونس سے روانہ ہوئے۔
بین الاقوامی ادارہ برائے ہجرت کے مطابق وسطی بحیرۂ روم کا راستہ خاص طور پر خطرناک سمجھا جاتا ہے، جہاں 2014 سے اب تک 32 ہزار 803 افراد ہلاک یا لاپتا ہو چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک