ملک میں انٹرنیٹ کیبل فالٹ مکمل طور پر دور نہیں کیا جاسکا ہے: سیکرٹری آئی ٹی کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونی کیشن کے اجلاس میں سیکرٹری آئی ٹی نے انکشاف کیا ہے کہ بین الاقوامی انٹرنیٹ کیبل میں پیدا ہونے والا فالٹ تاحال مکمل طور پر بحال نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے بتایا کہ فالٹ دور کرنے کے لیے متعلقہ کنسورشیم کی جانب سے کام تیزی سے جاری ہے، تاہم مرمت کا عمل پیچیدہ اور وقت طلب ہے۔ سیکرٹری کے مطابق، انٹرنیٹ سروس کی تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کی انٹرنیٹ ٹریفک کو عارضی طور پر متبادل بین الاقوامی روٹس پر منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ صارفین کو کم سے کم مشکلات کا سامنا ہو۔
کمیٹی کے ارکان نے ملک کے مختلف حصوں میں موبائل سگنلز کی کمزور کارکردگی اور نیٹ ورک کے مسائل پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا۔ اس سلسلے میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ اجلاس میں پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے حکام کو طلب کیا جائے گا تاکہ وہ تفصیلی وضاحت پیش کریں اور بہتری کے لیے عملی اقدامات بتائیں۔
اجلاس کے دوران اسلام آباد آئی ٹی پارک کے منصوبے پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر نے بتایا کہ پارک کی تعمیر کا تقریباً 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور بقیہ مراحل جلد مکمل کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیرِ آئی ٹی شزہ فاطمہ نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ منصوبہ کورین کمپنی کے اشتراک سے تیار کیا جا رہا ہے، تاہم بعض انتظامی وجوہات کے باعث تاخیر کا سامنا ہے، جس پر وزیرِاعظم نے باضابطہ انکوائری کا حکم دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسپیکٹرم کی کمی اور قانونی تنازعات کے باعث نیٹ ورک کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ ملک اس وقت صرف 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم پر چل رہا ہے جو صارفین کی بڑھتی ہوئی طلب کے لیے ناکافی ہے۔ حکومت آئندہ دسمبر یا جنوری تک نیا اسپیکٹرم آکشن کرانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ موبائل اور انٹرنیٹ سروسز میں بہتری لائی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔