مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی حیثیت ایک جارح کے سوا کچھ نہیں، محمد صفی
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
مظفرآباد پریس کلب میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں بھارت کی حیثیت ایک جارح کے سوا کچھ نہیں کیونکہ اس نے کشمیریوں کی خواہشات کے برخلاف ان کی سرزمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی نے کہا ہے کہ 27 اکتوبر جموں و کشمیر کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے جب 1947ء میں اس روز بھارت نے تمام بین الاقوامی قوانین، انسانی اقدار اور تقسیمِ برصغیر کے فارمولے کو پامال کرتے ہوئے ریاست جموں و کشمیر پر فوجی جارحیت کے ذریعے قبضہ جمایا۔ ذرائع کے مطابق غلام محمد صفی نے مظفرآباد پریس کلب میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں بھارت کی حیثیت ایک جارح کے سوا کچھ نہیں کیونکہ اس نے کشمیریوں کی خواہشات کے برخلاف ان کی سرزمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے کبھی بھی بھارتی تسلط کو قبول نہیں کیا ہے اور وہ اس کے خلاف قربانیوں کی ایک عظیم تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ غلام محمد صفی نے کہا کہ بھارت کشمیری عوام کے خلاف ریاستی دہشت گردی، نسل کشی، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور بنیادی انسانی و مذہبی حقوق کی پامالی جیسے سنگین جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے، اس نے آزادی کے مطالبے کی پاداش میں 1947ء سے اب تک لاکھوں کشمیری شہید اور ہزاروں لاپتہ کیے ہیں۔ تاہم بھارت اپنی تمام تر چیرہ دستیوں کے باوجود کشمیریوں کے حوصلے پست کرنے میں ناکام رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے زیر اہتمام 27 اکتوبر کو مظفرآباد میں ایک زبردست بھارت مخالف احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا اور بھارت کے ساتھ ساتھ عالمی برادی کو یہ واضح پیغام دیا جائے گا کہ کشمیری اس کے تسلط سے آزادی تک ہرگز چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ دریں اثنا ”یوم سیاہ“ کے حوالے سے مظفر آباد میں غلام محمد صفی کی زیر صدارت ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے صدور، کونسلرز، یونین کونسلز کے چیئرمین اور مختلف مکاتبِ فکر کے نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ غیر قانونی بھارتی قبضے کے خلاف جدوجہد میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
اجلاس میں حریت رہنما الطاف حسین وانی، زاہد اشرف، زاہد صفی، سید گلشن، مشتاق الاسلام، عبدالمجید میر، عزیر احمد غزالی، اقبال یاسین، تنظیر احمد، ارشاد احمد اور دیگر مہاجرین نمائندگان شریک تھے۔
ادھر میرپور، کوٹلی اور باغ اضلاع کے وفود نے 27 اکتوبر کو ”یوم سیاہ“ کے طور پر منانے کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے اسلام آباد میں قائم کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے دفتر کا دورہ کیا۔ حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے رہنماﺅں نے اس موقع پر وفود کو ”یوم سیاہ“ کے سلسلے میں منعقد کی جانے والی ریلیوں، سیمیناروں اور جلسے جلوسوں کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ اس دن مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگوں کیساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کیا جائے گا جنہیں آزادی کے مطالبے کی پاداش میں بڑے پیمانے پر وحشیانہ بھارتی جبر کا سامنا ہے۔
وفود میں حاجی محمد عارف، قاری مشتاق، شبیر چیچی، قاری محمد اکرم، مشتاق احمد زرگر، امتیاز احمد، اعزاز احمد میر، عبدالغنی عرف خواجہ ایاز، محمد سرفراز، بشیر احمد شگو، ظہیر احمد جرال، محمود اختر قریشی، محمد اسلم، چوہدری عبدالمالک، محمد اسلم، عبدالغنی، عبدالغنی اور دیگر شامل تھے۔ اس موقع پر حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کی نمائندگی سید اعجاز رحمانی، چوہدری شاہین اقبال، سید منظور احمد شاہ، شیخ عبدالمتین، راجہ خادم حسین اور قاضی عمران نے کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حریت کانفرنس آزاد غلام محمد صفی کشمیر شاخ کے نے کہا کہ
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب