اسٹاک ایکسچینج میں مندی، انڈیکس میں 1,300 پوائنٹس کی کمی
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز مندی کا رجحان برقرار رہا، جہاں سرمایہ کاروں نے ہفتے کے آغاز میں ہونے والی تیز رفتار تیزی کے بعد منافع سمیٹنے کو ترجیح دی۔
نتیجتاً بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 1,300 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں منافع کے حصول کا رجحان، ابتدائی تیزی زائل
جمعہ کے روز کاروباری سرگرمیوں کے دوران منفی رجحان غالب رہا، جس کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس ایک موقع پر 163,041.
https://Twitter.com/investifypk/status/1981616666636177904
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 1,286.28 پوائنٹس یا 0.78 فیصد کمی کے بعد 163,304.13 پوائنٹس پر بند ہوا۔
گزشتہ روز یعنی جمعرات کو بھی اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی، جب مختلف شعبوں میں مسلسل فروخت کے دباؤ نے کے ایس ای 100 انڈیکس کو 165,000 پوائنٹس کی حد سے نیچے دھکیل دیا۔
مزید پڑھیں:اسٹاک ایکسچینج میں مندی، انڈیکس میں 1200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
جمعرات کے روز 100 انڈیکس 1,962.87 پوائنٹس یعنی 1.18 فیصد کمی کے ساتھ 164,590.41 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر جمعے کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹ میں بہتری دیکھی گئی کیونکہ وال اسٹریٹ کے مثبت نتائج سمیت امریکا اور چین تعلقات میں بہتری کے اشاروں نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھایا۔
اس دوران امریکی پابندیوں کے بعد روسی سپلائرز پر اثرات کے سبب تیل کی قیمتوں میں بھی کمی آئی۔
نیویارک اسٹاک مارکیٹ کے اختتام کے بعد انٹیل کے مالیاتی نتائج توقعات سے بہتر رہے، جس نے امریکی کمپنیوں کے مثبت نتائج کی فہرست میں اضافہ کیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟
جاپان کے نکی انڈیکس میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جب کہ ملک کے نئے وزیرِاعظم کی جانب سے معاشی ترغیبات کے ممکنہ اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن کے باعث زیادہ تر اقتصادی اعداد و شمار معطل ہیں، اس لیے جمعہ کو جاری ہونے والے صارف قیمتوں کے اشاریے کو آئندہ ہفتے فیڈرل ریزرو کی پالیسی میٹنگ سے قبل خاص اہمیت حاصل ہے۔
سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہفتے ایشیائی دورے کے دوران چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔
ایم ایس سی آئی کے مطابق، جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص بازاروں کا جامع اشاریہ ابتدائی کاروبار میں 0.5 فیصد بڑھ گیا، جبکہ جاپان کا نکئی اسٹاک انڈیکس 1.2 فیصد بلند ہوا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیکس پاکستان اسٹاک ایکسچینج تیل روسی سپلائرز سرمایہ کار گراوٹ مثبت نتائج مسلم کمرشل بینک منفی رجحان نیشنل بینک وال اسٹریٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈیکس پاکستان اسٹاک ایکسچینج تیل روسی سپلائرز سرمایہ کار گراوٹ مثبت نتائج منفی رجحان وال اسٹریٹ اسٹاک ایکسچینج میں انڈیکس میں پوائنٹس کی کے بعد
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔