وفاقی حکومت نے رواں مالی سال میں کتنا قرضہ لیا؟ چونکا دینے والی تفصیلات سامنے آگئیں
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے ستمبر 2025 میں 43 کروڑ 66 لاکھ ڈالر کا نیا قرضہ حاصل کیا۔
رپورٹ کے مطابق اگست 2025 میں تقریباً 68 کروڑ ڈالر کا قرض لیا گیا تھا، جبکہ ستمبر میں موصول ہونے والی رقم میں سے 25 کروڑ 96 لاکھ ڈالر باہمی و کثیرالجہتی معاہدوں کے تحت حاصل کیے گئے۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ستمبر میں 17 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس بھی جاری کیے گئے۔ اس سے قبل اگست میں سعودی آئل فیسیلٹی کے تحت 10 کروڑ ڈالر موصول ہوئے تھے۔
اقتصادی امور ڈویژن کے مطابق جولائی سے ستمبر کے دوران پاکستان کو 4 کروڑ ڈالر کی گرانٹس بھی موصول ہوئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں رواں سال اسی عرصے میں 70 فیصد زیادہ قرض حاصل کیا گیا ہے۔
مزید یہ کہ جولائی تا ستمبر حکومت نے مجموعی طور پر 515 ارب روپے کا قرض لیا، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں لیے گئے 363 ارب روپے کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔