قرضوں میں مزید اضافہ، حکومت نے 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں 515 ارب روپے قرض لیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:۔ حکومت نے مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں 515 ارب روپے کا قرض حاصل کیا، جس میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 41 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جولائی، اگست اور ستمبر میں بالترتیب 198 ارب، 192 ارب اور 124 ارب روپے کا قرض لیا گیا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اس مالی سال میں مجموعی طور پر 5 ہزار 777 ارب روپے قرض لینے کا تخمینہ ہے۔
ستمبر میں حکومت نے 43 کروڑ 66 لاکھ ڈالر کا بیرونی قرض بھی حاصل کیا، جب کہ اگست میں 68 کروڑ ڈالر اور ستمبر میں 17 کروڑ 70 لاکھ ڈالر نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کے ذریعے حاصل کیے گئے۔
سعودی آئل فیسلٹی کے تحت اگست میں 10 کروڑ ڈالر موصول ہوئے اور اس مالی سال کے دوران اس سہولت سے 1 ارب ڈالر کی آمد متوقع ہے۔ اسی طرح عالمی مالیاتی اداروں جیسے آئی ایم ایف، ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک سے بھی مزید قرض حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جس میں 12 ارب ڈالر دوست ممالک کے رول اوور کے تحت شامل ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ رواں مالی سال کے دوران 25 کروڑ ڈالر پانڈا بانڈز اور 40 کروڑ ڈالر بانڈز جاری کیے جائیں گے، جبکہ 61 کروڑ ڈالر نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کے اجراءکا بھی منصوبہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کروڑ ڈالر ارب روپے مالی سال
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔