اسلام آباد سے مانچسٹر کے لیے پہلی پرواز کی راونگی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پی آئی اے پر عائد پابندی سے حکومت کو بڑا نقصان ہوا، تاہم ہم نے قومی ایئرلائن کے معیار کو دوبارہ بحال کیا ہے، پی آئی اے کے روٹس کی بحالی پاکستان کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، اور مانچسٹر کے لیے پرواز کا آغاز ایک شاندار آغاز ثابت ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ قومی ایئرلائن پی آئی اے نے 5 سال سے زائد عرصے کے بعد برطانیہ کے لیے پروازوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، اسلام آباد سے مانچسٹر کے لیے پہلی پرواز روانہ ہو گئی۔ اسلام آباد ایئرپورٹ پر اس موقع پر ایک شاندار تقریب منعقد کی گئی جس میں وزیر دفاع خواجہ آصف، برطانوی ہائی کمشنر جین میرٹ، ایوی ایشن حکام اور پی آئی اے انتظامیہ سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پی آئی اے پر عائد پابندی سے حکومت کو بڑا نقصان ہوا، تاہم ہم نے قومی ایئرلائن کے معیار کو دوبارہ بحال کیا ہے، پی آئی اے کے روٹس کی بحالی پاکستان کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، اور مانچسٹر کے لیے پرواز کا آغاز ایک شاندار آغاز ثابت ہوگا۔

خواجہ آصف نے برطانوی ہائی کمشنر جین میرٹ کے تعاون کو کلیدی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا، جس سے یہ بحالی ممکن ہوسکی، وزیر دفاع نے سفارتی عملے کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔ واضح رہے کہ برطانیہ کے لیے پابندی جولائی 2020ء میں عائد کی گئی تھی جب پائلٹس کی ڈگریوں سے متعلق معاملہ سامنے آیا تھا، 5 سال 3 ماہ بعد یہ پابندی ختم ہوئی اور پی آئی اے کی پروازیں ایک بار پھر برطانیہ کی فضاؤں میں اڑان بھرنے کے لیے تیار ہیں۔

ابتدائی مرحلے میں پی آئی اے ہفتے میں 2 پروازیں آپریٹ کرے گی، منگل اور ہفتے کے روز اسلام آباد سے مانچسٹر کے لیے پروازیں روانہ ہوں گی، افتتاحی پرواز بوئنگ 777 کے ذریعے 284 مسافروں کو لے کر دن 12 بجے روانہ ہوئی۔ذرائع کے مطابق دوسرے مرحلے میں پی آئی اے لندن کے لیے بھی براہ راست پروازوں کا آغاز کرے گی، اسلام آباد ایئرپورٹ پر برطانیہ فلائٹس کی بحالی کے موقع پر مانچسٹر کی عمارت کا ہیوی پورٹریٹ بھی آویزاں کیا گیا ہے، جو پاکستان اور برطانیہ کے درمیان فضائی تعلقات کی بحالی کی علامت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مانچسٹر کے لیے کے لیے پرواز اسلام آباد وزیر دفاع پی آئی اے کی بحالی

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے