آزاد کشمیر زرداری نے عدم اعتماد کی منظوری دیدی
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+نوائے وقت رپورٹ) پیپلزپارٹی نے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لاکر حکومت بدلنے کا اعلان کر دیا۔ فیصلہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کی زیر صدارت آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا جائے گا۔ اس پر اتفاق کیا گیا پی پی رہنما نے کہا آزاد کشمیر حکوت بنانے جا رہے ہیں۔ پی پی نے تحریک عدم اعتماد سے متعلق نمبرز پورے ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ قمر زمان کائرہ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ابتدائی مشاورت کی گئی ہے۔ مسلم لیگ نے آزاد کشمیر میں اپوزیشن میں بیٹھنے کے فیصلے سے باضابطہ آگاہ نہیں کیا۔ صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں ان ہائوس تبدیلی کا فیصلہ برقرار رکھا، وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف 72 گھنٹے میں تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ قبل ازیں پہلے بلاول بھٹو کی زیر صدارت اجلاس میں آزاد کشمیر میں ان ہاؤس تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا، ایوان صدر میں ہونے والے اجلاس میں آصف علی زرداری نے آزاد کشمیر میں عدم اعتماد دلانے کی منظوری دیدی۔ بلاول بھٹو آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کا خود اعلان کریں گے، پارلیمانی پارٹی اجلاس میں چودھری یاسین، سردار یعقوب اور چودھری لطیف اکبر نے ناموں پر غور کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: تحریک عدم اعتماد پارلیمانی پارٹی اجلاس میں کیا گیا
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔