پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کو ہٹانے کا اصولی فیصلہ، وجوہات بھی سامنے آگئیں
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ محمد وسیم کو عہدے سے ہٹائے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہیڈ کوچ ویمن کرکٹ ٹیم محمد وسیم کو نیا کنٹریکٹ نہ دینے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔2024 میں ویمن ٹیم کے ہیڈ کوچ بنائے گئے محمد وسیم کو ہٹانے کا فیصلہ کیوں کیا گیا اس کی وجوہات بھی سامنے آ گئیں۔ذرائع کا بتانا ہے کہ محمد وسیم کی کوچنگ میں پاکستانی ویمن ٹیم مسلسل زوال پذیر ہوئی، بورڈ کی مکمل سپورٹ ملنے کے باوجود محمد وسیم نتائج دینے میں ناکام رہے، تمام تر دعوؤں کے برعکس ٹیم ویمن ورلڈ کپ کا ایک بھی میچ نہ جیت سکی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ہیڈ کوچ ہونے کے باوجود محمد وسیم کی جانب سے کھلاڑیوں کو کوچنگ نہ کرنے کی شکایت بھی سامنے آئی۔ذرائع کے مطابق وسیم خود بیٹر تھے لیکن ویمن ٹیم کی بیٹنگ کمزور ترین ہو گئی، محمد وسیم کا رویہ اکھڑ مزاج رہا، بولنگ اور بیٹنگ کوچ سمیت کھلاڑیوں سے بھی ان کی نہ بن سکی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد وسیم ہیڈ کوچ ہونے کے ساتھ پاکستانی ویمن ٹیم کی سلیکشن میں بھی شامل رہے، انہوں نے سپورٹ اسٹاف کی تقرریاں مرضی سے کیں لیکن پھر بھی نتائج صفر رہے۔ویمن ٹیم بولنگ کے شعبے میں بھی مسلسل تنزلی کا شکار رہی، ٹیم کی فیلڈنگ بھی بہتر نہ ہو پائی، ورلڈ کپ میں ڈھیروں کیچز ڈراپ ہوئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد وسیم کی جگہ اگلے ہفتے نئے ہیڈ کوچ کی تقرری کا امکان ہے۔خیال رہے کہ سری لنکا اور انڈیا میں جاری ویمن کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستانی ویمن ٹیم کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی اور قومی ٹیم 7 میں سے ایک بھی میچ نہ جیت سکی، 4 میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ 3 میچز بارش کی وجہ سے بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ویمن کرکٹ ویمن ٹیم ذرائع کا ہیڈ کوچ ٹیم کی
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔