خطرات کی زد میں (دوسرا اور آخری حصہ)
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
ظلم و ستم گری اور غیر منصفانہ رویے کے حوالے سے لوٹ مار کرنے والے گروہ بے حد بے رحم ہے۔ پولیس اپنی کارکردگی اور اپنے فرائض منصبی سنبھالنے میں ناکام ہو چکی ہے، کسی زمانے میں ہمارے معاشرے میں خواتین کو الحمدللہ عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ شاید اسلامی تعلیمات کے اثرات تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ زائلہوتے جا رہیہیں اب تو سیاسی جلسوں اور نعروں کی صداؤں یا بہت معمولی باتوں پر انھیں بالوں سے پکڑ کرکھینچا جاتا ہے اور پولیس موبائل میں جانوروں کی طرح دھکیل دیتے ہیں اور سیاسی انتقام کی خاطر گھروں میں کود کر چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنے میں کسی بھی قیمت میں کسر نہیں چھوڑتے ہیں۔
ان حرکات کی وجہ سے ایک نہیں سیکڑوں گھرانوں میں حزن و ملال کی کیفیت پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ نظام زندگی درہم برہم ہو چکا ہے۔ گھر کا ہر فرد پریشان ہے۔سندھ کی صورت حال دوسرے صوبوں سے پھر بھی بہتر ہے ابھی ہماری پولیس نے سفاکیت کا درس نہیں سیکھا ہے۔ ایک آدھ واقعہ ضرور رونما ہوا ہے لیکن اتنا سنگین نہیں۔ سیاسی حالات و واقعات کے ساتھ ساتھ معاشرتی اور معاشی دکھوں نے بھی یہاں کے مکینوں کا جینا حرام کر دیا ہے۔ کاش! ہمارے حکمران کراچی کے حالات پر نظر کرم کرتے تو آج معصوم بچے، خواتین، پورے پورے دن کی بھوک کی اذیت میں مبتلا ہرگز نہ ہوتے، اب بجلی کے بعد گیس کا عذاب بھی نازل ہوچکا ہے؟
اس کی وجہ بھی ہمارے حکمران ہیں، یہ حضرات عوام کی ضرورتوں سے بالکل بے پرواہ ہوچکے ہیں یوں لگتا ہے کہ انھیں عوام کے جینے مرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ اقتدار کی کرسیوں پر براجمان ہونے والے ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ وہ اپنے فرائض پورے کرنے میں کس قدر دیانت دار ہیں۔ خود تو وہ تمام آسائشوں کے ساتھ زندگی کا لطف لے رہے ہیں۔ کراچی کے بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں گیس پورا پورا دن نہیں آتی ہے۔ ان کے بچے بغیر ناشتہ کیے اسکول و کالج جاتے ہیں اور گھر آ کر باسی کھانے سے گزارا کرتے ہیں۔ رات کے کھانے کا بھی ایسا ہی حال ہے لوگ انھیں ووٹ اس لیے نہیں دیتے ہیں کہ وہ طوطا چشمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اتنے سخت دل ہو جائیں کہ انھیں تڑپتے سسکتے لوگوں کی سسکیاں اور آہیں سنائی نہ دیں۔
بے شک اقتدارکا نشہ ہو یا دوسری چیزوں کا، انسان کو گمراہ کر دیتے ہیں جو لوگ دولت اور شہرت کے نشے میں ڈوب گئے ہیں وہ لوگ اپنا ہی نقصان کرتے ہیں۔ مقتدر حضرات ہزاروں لاکھوں لوگوں کے لیے عذاب جاں بن چکے ہیں، آنکھوں پر دولت کی پٹی باندھ لی ہے، ہیرے جواہرات اور سونے چاندی کی چمک نے ان کی نگاہوں کو خیرہ کر دیا ہے۔ ان کی نگاہ معاشرتی مسائل اور معاشی دکھوں کا احاطہ نہیں کرتی ہے، لاقانونیت بڑھتی جارہی ہے، اغواء اور ڈکیتی کی وارداتیں روزانہ کی بنیاد پر ہورہی ہیں۔
نوزائیدہ بچوں کی چوری دن دہاڑے اسپتال کے عملے کی مدد سے کی جاتی ہے، ملزموں سے کوئی پوچھنے والا نہیں،اکثر اوقات پولیس کی کوششوں سے یہ بچے مل بھی جاتے ہیں اور کئی خاندان حزن وملال سے بچ جاتے ہیں، آئے دن ایسی صورت حال سے والدین کو واسطہ پڑتا ہے، بڑے بڑے ہوٹلوں میں تو غیر اخلاقی و غیر انسانی حرکات و سکنات کا بازار بغیرکسی پابندی کے سجتا ہے ان جرائم میں ملوث ملزمان کو پکڑا اور نہ سزا کا مستحق قرار دیا جاتا ہے۔ گویا ان کے لیے محض بڑے افسران کی سفارش اور حمایت کی وجہ سے کوئی قانون نہیں ہے، ان سب کو قانون شکنی کی پوری اجازت ہے، غریب کا بچہ روٹی کا نوالہ بھی بھوک کی حالت میں چرا لے یا چھوٹے موٹے جرم میں ملوث ہو جائے تو ان بے بس اور مجبور لوگوں کے لیے قانون حرکت میں آ جاتا ہے۔
اگر آج حکومت تعلیم کو اپنے ملک کے ہر شہری کے لیے ضروری قرار دیتی اور پولیو کے قطرے پلانے والوں کی طرح ہر گھر سے بچوں کو اسکول میں داخلے کے لیے مجبور کرتی، کتابیں، قلم اور دوسری چیزیں مفت فراہم کی جاتیں تو یہ معاشرہ جو درندوں کا بن چکا ہے، تعلیم یافتہ اور مہذب لوگوں پر مشتمل ہوتا۔ لیکن ایسا کرنے میں خسارہ حکومت کا ہی تھا۔ دولت کی طمع نے اشرف المخلوقات کے درجے سے اٹھا کر ذلت کے گڑھے میں دھکیل دیا ہے لیکن احساس نام کی کوئی چیز نہیں، احساس جب سیلاب زدگان کا نہیں ہو سکا جو بے چارے آج بھی کھلے آسمان تلے چارپائی یا مٹی کی ڈھیریوں پر لیٹنے، بیٹھنے پر مجبور ہیں، کراچی کے شہری زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے عرصہ دراز سے محروم ہیں، بڑی گاڑیوں اور بڑے مکانوں، بنگلے کوٹھیوں، حویلیوں اور محلوں پر تو مقتدر حضرات کا حق ہے یہ لوگ غریب کے پیسوں سے آسائش زندگی خریدتے ہیں اور مفلس انسان دانے، دانے کے لیے محروم کر دیا گیا ہے، یوٹیلیٹی بلز کا ادا کرنا بھی ان کے لیے ناممکن ہے۔
کے ای کے افسران اعلیٰ اور ورکرز آنکھیں بند کرکے ان غریب گھرانوں میں بلوں کی ترسیل کرتے ہیں جو بے چارے غربت کی لکیر کے نیچے زندگی کے اذیت ناک پل گزار رہے ہیں۔ بل ہزاروں روپے ماہانہ موصول ہوتا ہے چونکہ ایک دو پنکھے اور اسی طرح بجلی کے بلب تین، چار سے زیادہ ہرگز نہیں، ایک کمرے میں ایک پورا خاندان اس لیے گزارا کرتا ہے کہ دوسرا پنکھا یا لائٹ نہ جلانا پڑے اور بل کم سے کم آئے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہزاروں اور لاکھوں کا بل جسے آنکھیں بند کرکے یا نشے میں مدہوش ہو کر بنایا گیا تھا۔ وہ جب صاحب خانہ کو ملتا ہے تو پیروں تلے زمین نکل جاتی ہے اور انسانی وجود خلا میں معلق ہو جاتا ہے۔ بندہ مرتا ہے اور نہ جیتا ہے اگر دفتر جا کر شکایت درج کی جائے تب یہ ظالم اپنے ورکرز کو حکم صادر کرتے ہیں کہ بجلی کاٹ دی جائے اور پھر ایسا ہی ہوتا ہے دنیا کا جہنم غربا و مساکین اور قیامت کا جہنم زر پرستوں کے حصے میں لکھ دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کرتے ہیں کے ساتھ جاتا ہے ہیں اور کے لیے
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔