گلگت میں آئمہ جمعہ کانفرنس، کراچی میں دہشتگردی کا رخ ملت تشیع کی طرف موڑنے کی کوشش کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
کانفرس میں یہ فیصلہ ہوا کہ آٸندہ گلگت بلتستان کے آٸمہ جمعہ کے مابین ہر تین ماہ بعد اجلاس منعقد ہوگا۔ تاکہ امن و امان اور اتحاد ملت کے ذریعے آنے والے چیلنجز کا بھرپور مقابلہ کر سکیں۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت ڈویژن اور ضلع استور کے آئمہ جمعہ و خطباء کی ایک نہایت اہم اور ہمہ گیر کانفرنس جامع مسجد شہید آغا سید ضیاءالدین گلگت میں منعقد ہوئی۔کانفرنس کی صدارت آغا سید راحت حسین الحسینی نے کی۔ کانفرنس میں نگر، ہنزہ، حراموش، جلال آباد، بگروٹ گلگت، بارگو، شروٹ، گاہکوچ اور استور سے آئے ہوئے آئمہ کرام نے بھرپور شرکت کی اور عالمی، ملکی اور علاقائی صورتِ حال کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ علماء و خطباء نے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے امن معاہدے کی کھلی خلاف ورزی اور مسلسل دراندازی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ مظلوم فلسطینیوں کے حق اور عالمی امن کے قیام میں اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔ ملکی حالات پر گفتگو کرتے ہوئے شرکاء نے کراچی میں سندھ پولیس اور صوبائی حکومت کی جانب سے دہشتگردی کا رخ ملتِ تشیع کی طرف موڑنے کی کوشش کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔ مزید برآں، اسلام آباد میں تکفیری خوارج کے سرغنہ اورنگزیب فاروقی اور احمد لدھیانوی جیسے شرانگیز عناصر کو عوامی اجتماع کی اجازت دینا ریاستی اداروں کی ناکامی قرار دیا گیا۔ ان تکفیری عناصر کی طرف سے ملتِ تشیع کے خلاف زہرآلود پروپیگنڈے اور اکابرین کی اہانت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا تاکہ ملک میں امن و امان کا تسلسل برقرار رہے۔
علاقائی حالات کے تناظر میں علماء نے متفقہ طور پر اس بات پر زور دیا کہ اہلسنت بھائیوں کے ساتھ مضبوط اور بامقصد روابط قائم کیے جائیں گے، تاکہ دشمن کی تمام سازشیں ناکام ہوں اور گلگت بلتستان میں دیرپا امن، بہترین تعلیمی مواقع اور باعزت روزگار کی فراہمی ممکن ہوسکے۔ علاوہ ازیں، علاقے میں تفرقہ پھیلانے والے تکفیری عناصر کے خلاف سخت اور دوٹوک موقف اپنانے پر اتفاق کیا گیا تاکہ ان کے شر کو جڑ سے اکھاڑ کر امن و استحکام کی فضا کو مزید مضبوط بنایا جاسکے۔ کانفرس میں یہ فیصلہ ہوا کہ آٸندہ گلگت بلتستان کے آٸمہ جمعہ کے مابین ہر تین ماہ بعد اجلاس منعقد ہوگا۔ تاکہ امن و امان اور اتحاد ملت کے ذریعے آنے والے چیلنجز کا بھرپور مقابلہ کر سکیں۔ کانفرنس کے اختتام پر اپنے صدارتی خطاب میں آغا راحت الحسینی نے کہا کہ اتحاد بین المسلمین ہی وہ بنیاد ہے جس کے ذریعے اس خطے کو حقیقی معنوں میں امن کا گہوارہ بنایا جاسکتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے فتنہ پرور اور شرپسند عناصر کے خلاف فوری اور بھرپور کارروائی کریں تاکہ عوام کا اعتماد بحال رہے اور معاشرہ ترقی کی جانب گامزن ہوسکے۔ انہوں نے نوجوانوں کی دینی و فکری رہنمائی کے لیے سوشل میڈیا کے مثبت استعمال اور علماء کے ساتھ ان کے تعلقات بڑھانے پر بھی زور دیا، تاکہ سنت رسولؐ کی روشنی میں نئی نسلوں کے دلوں میں نفرت کے بجائے محبت، رواداری اور اخوت کو فروغ ملے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
محسن نقوی کی مستونگ کے قریب سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
سٹی 42 : وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی جانب سے مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور جوڈیشل مجسٹریٹ طارق لاشاری پر فائرنگ کی پرزور مذمت کی گئی ہے۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نے سیشن جج عبدالحکیم اور گن مین کے جاں بحق ہونے کے واقعہ پر اظہار افسوس کیا۔ محسن نقوی نے سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی جانب سے مرحومین کی بلندی درجات کیلئے دعا، وزیرداخلہ محسن نقوی نے زخمی جوڈیشل مجسٹریٹ طارق لاشاری اور دیگر افراد کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
محسن نقوی نے کہا کہ ایسی بزدلانہ کارروائیاں قوم کے پختہ عزم کو پست نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔