حیدرآباد،ڈی سی کی زیرقیادت اظہاریکجہتی کشمیر ریلی
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251028-2-8
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)یوم سیاہ کشمیر کے موقع پر ضلع حیدرآباد میں کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے ایک پرامن ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی کی قیادت ڈپٹی کمشنر حیدرآباد زین العابدین میمن نے کی، جو شہباز بلڈنگ سے پوسٹ ماسٹر جنرل چوک تک نکالی گئی۔ریلی میں ضلعی انتظامیہ کے افسران، پولیس اہلکار، سول سوسائٹی کے نمائندگان، اساتذہ، اسکول و کالجوں کے طلبہ و طالبات، اور ڈسٹرکٹ اسکاٹس نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکا نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیر بنے گا پاکستان اور کشمیریوں پر ظلم بند کرو جیسے نعرے درج تھے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر حیدرآباد زین العابدین میمن نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ آج ہم کشمیر یوم سیاہ کے موقع پر اپنے کشمیری بہنوں اور بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کے اظہار کے لیے یہ پرامن ریلی نکال رہے ہیں۔ ہم پوری دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پاکستان کی عوام ہمیشہ اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف ہم اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے، جب تک انہیں حق خودارادیت نہیں ملتا۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ آج ضلع حیدرآباد کے تمام اسٹیک ہولڈرز، مختلف محکموں کے افسران، اساتذہ، طلبہ، اور شہری نمائندگان اس بات کا عزم دہرا رہے ہیں کہ کشمیری عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ہم اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کشمیر کے مسئلے پر اپنی منظور شدہ قراردادوں پر فوری طور پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ ریلی کے شرکا نے کشمیر کی آزادی اور مظلوم کشمیری عوام کے حق میں زوردار نعرے لگائے اور کشمیری عوام سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کشمیری عوام
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔