اماراتی امیگریشن قوانین میں تبدیلی، غیر قانونی افراد کو پناہ دینے پر کروڑوں کے جرمانے نافذ
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
دبئی: متحدہ عرب امارات نے رہائشی اور امیگریشن قوانین مزید سخت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو پناہ دینے، ملازمت فراہم کرنے یا سہولت دینے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔
حکام کے مطابق رہائشی قوانین کی خلاف ورزی اب قومی سلامتی کے خلاف جرم شمار ہوگی۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق امارات میں غیر قانونی افراد کو رہائش دینے پر 50 لاکھ درہم تک جرمانہ (یعنی پاکستانی روپے میں تقریباً 38 کروڑ روپے) عائد کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ متعلقہ افراد کو قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔
حکام کے مطابق وزٹ ویزے پر کام کرنا سنگین خلاف ورزی ہے، جس پر 10 ہزار درہم (تقریباً 7 لاکھ 60 ہزار روپے) جرمانہ ہوگا۔ جعلی رہائشی دستاویزات رکھنے یا استعمال کرنے والوں کو 10 سال تک قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اماراتی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ لیبر مارکیٹ کے تحفظ اور قومی سلامتی کے پیشِ نظر امیگریشن قوانین پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ کر دی گئی ہے اور بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے۔
حکام نے واضح کیا کہ غیر قانونی رہائش، ملازمت یا سہولت کاری پر کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افراد کو
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔