17 سالہ طالبہ غیرت کے نام پر سسرکے ہاتھوں قتل
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2025 GMT
راولپنڈی میں 17 سالہ طالبہ کو ہونے والے سسر نے غیرت کے نام پر قتل کردیا۔
پولیس کے مطابق راولپنڈی کے تھانہ جاتلی کے علاقے سید کسراں میں 17 سالہ فرسٹ ایئر کی طالبہ کے قتل کا مقدمہ طالبہ کی والدہ، والد اور چچا کے بیانات قلم بند کرکے درج کرلیا گیا۔ مقدمہ قتل ،جرم کوخھپانے و شہادت ضائع کرنے کی دفعات کے تحت درج کیا گیا۔
مقدمے کے متن کے مطابق طالبہ کو اسکے ہونے والے سسر نےجو رشتے میں چچا بھی لگتا ہےغیرت کے نام پر قتل کیا۔ طالبہ کہ پراسرار موت اور اچانک تدفین کے معاملے پر پولیس نے رپورٹ درج کرکے اس کی والدہ عظمی بتول ،والد نعیم رضا اور سگے چچا وسیم رضا کو طلب کرکے تحقیقات کیں۔
طالبہ کی والدہ عظمی بتول نے ہوش روبا انکشاف کیا کہ بیٹی مسماتہ نعلین زہرا فرسٹ کی طالبہ تھی اور اس کی منگنی چچا وسیم رضا کے بیٹے عون کے ساتھ ہوئی تھی۔ ہم سب اور دیور وسیم رضا ایک ہی حویلی میں رہتے تھے۔
3 فروری کو بیٹی گھر سے غائب ہوئی تو شوہر اور دیور وسیم رضا اس کو تلاش کرنے گئے۔ جرگے سے شب ایک بجے بیٹی کو واپس لے کر گھر پہنچے۔ دیور جو لڑکی کا چچا ہے بیٹی کو لے کر کمرے میں چلا گیا۔ صبح بیٹی بستر سے نہ اٹھی جو فوت ہوچکی تھی جس کی تدفین کردی گئی۔ بیٹی کی ناگہانی موت پر گھر میں شور کیا تو دیور وسیم رضا نے میرے شوہر کی موجودگی میں بتایا کہ ہم عزت دار لوگ ہیں۔
مسماتہ نعلین زہرا جو ملنگوں کے لڑکے شیر عباس عرف شیر کے ساتھ بھاگ گی تھی رنج کی وجہ سے اس کو گندم میں رکھنے والے گولیاں کھلا کر قتل کردیا ہے۔ طالبہ کے والد نعیم رضا نے بھی واقعہ کی تصدیق کی۔ وسیم رضا نے بھی تحریری بیان میں بتھیجی نعلین زہرا کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کا اعتراف کرلیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ کی قبر کشائی کرکے پوسٹ مارٹم بھی کرلیا گیا ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے نام پر
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔