بھارت کو کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا، علامہ مقصود ڈومکی
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے واضح کیا کہ وطن عزیز پاکستان کی سالمیت، عزت اور وقار ہمیں ہر چیز سے بڑھ کر عزیز ہے، اور ہم پاک وطن کے چپے چپے کی حفاظت کرینگے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے پاکستان کے خلاف جنگی عزائم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وطن عزیز پاکستان کی سالمیت، عزت اور وقار ہمیں ہر چیز سے بڑھ کر عزیز ہے، اور ہم پاک وطن کے چپے چپے کی حفاظت کریں گے۔ جامعۃ المصطفیٰ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیکب آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ اگرچہ ہمیں موجودہ حکمرانوں اور ان کے سرپرستوں کے جعلی مینڈیٹ اور عوام دشمن پالیسیوں پر سخت اعتراضات ہیں، تاہم ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر دشمن نے پاکستان پر حملے کی غلطی کی، تو پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند متحد ہو کر دشمن کا بھرپور جواب دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم امن، اخوت اور ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں، لیکن ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ بھارت کو کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
دریائے سندھ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے سندھ دریا پر بنائے جانے والے غیر قانونی کینالز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم پانی اور دریا کے تحفظ کے لیے جاری سندھی عوام کی جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ پرامن مظاہرین پر تشدد یا طاقت کا استعمال کسی صورت قبول نہیں ہوگا اور اگر ایسا کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ملک کے تمام محب وطن طبقات سے اپیل کی کہ وہ وطن عزیز کی بقاء، سالمیت اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے متحد ہو جائیں۔ اس موقع پر حاجی شاہ مراد ڈومکی، استاد عبدالفتاح ڈومکی، احمد علی ٹالانی، مولانا منور حسین سولنگی، علامہ سیف علی ڈومکی، منصب علی ڈومکی، زوار غلام مصطفی ڈومکی، مولانا ارشاد علی سولنگی، میر حبیب اللہ وزیرانی، نثار احمد گورگیج و دیگر عہدے دار ان کے ہمراہ تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ مقصود علی ڈومکی نے کرتے ہوئے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔