UrduPoint:
2026-07-24@13:21:25 GMT

امریکی صدر کا دورہ مشرق وسطیٰ، ایجنڈے پر کیا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT

امریکی صدر کا دورہ مشرق وسطیٰ، ایجنڈے پر کیا ہے؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 10 مئی 2025ء) کچھ روز قبل روم میں پاپائے روم کی آخری رسومات میں شامل ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ اب مشرق وسطیٰ کے انتہائی اہم قرار دیے جانے والے غیر ملکی دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ ریاض، دوحہ اور ابو ظہبی میں ٹرمپ کا عمدہ استقبال متوقع ہے اور امکان ہے کہ دفاع، ایوی ایشن، توانائی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں بڑی بڑی ڈیلز طے پا سکتی ہیں۔

ریاض میں، ٹرمپ خلیج تعاون کونسل کی چھ ریاستوں: سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت اور عمان کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔

'سینٹر فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز‘ میں مشرق وسطیٰ سے متعلق امور کے ماہر جان آلٹرمین کا کہنا ہے، ''ڈونلڈ ٹرمپ کے میزبان مہمان نوازی کا مظاہرہ کریں گے۔

(جاری ہے)

وہ بڑے بڑے سودے کرنے کے خواہشمند ہیں۔

وہ ان کی تعریف کریں گے اور ان پر تنقید نہیں کریں گے۔ وہ ان کے خاندان کے افراد کے ساتھ ماضی اور مستقبل کے کاروباری شراکت داروں کی طرح برتاؤ کریں گے۔‘‘

غزہ میں امداد کی ترسیل کے لیے نئی فاؤنڈیشن کے قیام کا اعلان

جنگ بندی کی ناکامی کا ذمہ دار اسرائیل ہے، قطری امیر

امریکہ سے مکالمت صرف جوہری پروگرام اور پابندیوں سے متعلق، ایران

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے جمعے کو کہا تھا، ''صدر مشرق وسطیٰ میں اپنی تاریخی واپسی کے منتظر ہیں تاکہ ایک ایسے وژن کو فروغ دیا جا سکے جہاں انتہا پسندی کو شکست دی جائے اور تجارت اور ثقافتی تبادلوں کو بڑھایا جائے۔

‘‘

خلیجی ریاستوں نے بڑے عالمی تنازعات میں اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے۔ قطر حماس اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات میں ایک بڑا سہولت کار رہا ہے جبکہ سعودی عرب نے یوکرین کی جنگ پر بات چیت میں سہولت کاری کی ہے۔

لیکن ایک ملک جو امریکی صدر کے اس دورت کی منزلوں میں شامل نہیں، وہ اسرائیل ہے، جو خطے میں امریکہ کا سب سے قریبی اتحادی ہے۔

اس صورتحال نے ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے درمیان اختلافات کے بارے میں قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔

دورے کے دوران سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوششیں ممکنہ طور پر پیچھے رہ سکتی ہے کیونکہ ریاض کا کہنا ہے کہ اس سے قبل فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف پیش رفت دکھنا ضروری ہے۔

ایران بھی ایجنڈے میں سرفہرست ہے۔ واشنگٹن اور تہران اتوار کو عمان میں ایرانی جوہری پروگرام پر بالواسطہ مذاکرات کے تازہ ترین دور میں شریک ہو رہے ہیں۔

عاصم سلیم اے ایف پی کے ساتھ

ادارت: شکور رحیم

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کریں گے

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل