اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 13 مئی ۔2025 )چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان پرامن بقائے باہمی اور علاقائی تعاون کے اصولوں پر مکمل یقین رکھتا ہے، خطے کے امن کی بقا کے لئے پاکستان نے اشتعال انگیزیوں کے باوجود تحمل اور مذاکرات کو ترجیح ،جنگ کے بجائے مکالمے کے ذریعے مسائل کا حل وقت کی ضرورت ہے، پاکستان اور روس کے تعلقات وقت کے ساتھ مستحکم ہو رہے ہیں.

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلا نی کی روسی فیڈریشن کی فیڈریشن کونسل کی چیئرپرسن ویلنٹینا ماٹویینکو سے اہم ملاقات ہوئی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی سفارتکاری، امن، تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال کیا گیا چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے روسی قیادت کی شاندار مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ تعلقات کے مزید فروغ کا اعادہ پاکستان اور روس کے تعلقات مثبت سمت میں گامزن ہیں جو نہ صرف باہمی خوشحالی بلکہ ایک محفوظ اور مستحکم خطے کے لیے بھی بہت ضروری ہے.

انہوں نے زور دیا کہ ایسے اعلی سطحی تبادلے پارلیمانی سفارت کاری کو تقویت دینے میں معاون ثابت ہوتے ہیں اور باہمی سمجھوتوں اور تعاون کی بنیاد کو مضبوط کرتے ہیں چیئرمین سینیٹ نے روسی فیڈریشن کی چیئرپرسن اور روسی قیادت کو یوم فتح کی 80ویں سالگرہ پر پرتپاک مبارکباد بھی پیش کی۔

(جاری ہے)

ملاقات کے دوران دونوں رہنماﺅں نے پارلیمانی تبادلوں، علاقائی سلامتی، توانائی کے شعبے میں تعاون، اور عوامی روابط کے فروغ سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا.

ویلنٹینا ماٹویینکونے سید یوسف رضا گیلانی کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور انہیں ایک مدبر سیاستدان اور روس کے دیرینہ دوست کے طور پر سراہا انہوں نے کہا سید یوسف رضا گیلانی کے دور وزارتِ عظمی میں دوطرفہ تعلقات مضبوط ہوئے اور اب ان کی چیئرمین شپ میں یہ نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں انہوں نے دونوں پارلیمانی اداروں کے مابین باہمی مفاہمتی یادداشت کے تحت تعاون کو مزید فروغ دینے میں دلچسپی کا اظہار کیا ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین پارلیمانی سفارت کاری کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیا گیا، خصوصا ایسے وقت میں جب جیوپولیٹیکل کشیدگی بڑھ رہی ہے.

چیئرمین گیلانی نے کہا کہ مضبوط بین الپارلیمانی روابط ایسے خطوں میں استحکام لا سکتے ہیں جو کشیدگی کا شکار ہیں جن میں افغانستان اور جنوبی ایشیا بھی شامل ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور قانون کی حکمرانی کے لیے پرعزم ہے اور تمام تنازعات، بشمول مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی طریقوں کا حامی رہا ہے انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان پرامن بقائے باہمی اور علاقائی تعاون کے اصولوں پر مکمل یقین رکھتا ہے اور پاکستان نے اشتعال انگیزیوں اور سیکیورٹی خدشات کے باوجود ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کیا اور محاذ آرائی کے بجائے کشیدگی میں کمی اور تعمیری بات چیت کو مسائل کے حل کے لئے ترجیح دی ہے.

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ لاکھوں بے گناہوں کوجنگ میں جھونکنے کی بجائے مکالمے کے ذریعے معاملات کو آگے بڑھانا چاہیے پاکستان نے بے بنیاد الزامات کو یکسر مسترد کیا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں حالیہ بھارتی بے بنیاد الزامات پرآزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور یکطرفہ اقدامات جیسے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کی مذمت کی ہے انہوں نے روس پر زور دیا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے مابین امن کے فروغ میں فعال کردار ادا کرے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے شواہد کی فراہمی اور واقعے کی آزادانہ تحقیقات کی باقاعدہ تجویز دی تاکہ جنگ کو ہوا دینے کے بجائے انصاف ہو.

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی اعتماد اور بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی ہے جو کہ خطے کے آبی تحفظ کو خطرے میں ڈالتی ہے اور اصل مسئلہ یعنی کشمیر سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے انہوں نے اس مقف پر زور دیا کہ کسی بھی ملک کی سرزمین کو دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے. انہوں نے کہا کہ ایک ذمہ دار عالمی طاقت اور پاکستان کے دیرینہ دوست کی حیثیت سے وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے لیے متحرک کردار ادا کرے ویلنٹینا ماٹویینکونے کہا کہ روس پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات میں معاونت کے لیے تیار ہے انہوں نے کہا یہ حوصلہ افزا بات ہے کہ صورتحال اب بہتر ہو رہی ہے اور جنگ بندی قائم ہو چکی ہے انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی دہشت گرد صرف علاقائی استحکام کے لیے نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہیں روس کی جانب سے حالیہ پیش رفت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سفارتی زبان ہی غالب آنی چاہیے اور روس و یوکرین تنازع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صرف مکالمے سے ہی تنازعات کا حل ممکن ہے تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے چیئرمین سینیٹ نے پاکستان میں موجودتجارت و سرمایہ کاری کے وسیع مواقعوں کو تفصیلی اجاگر کیا.

انہوں نے کہا کہ پاکستانروس بین الحکومتی کمیشن کے تحت جاری منصوبوں، بشمول توانائی، میٹالرجی، ہائیڈرو اور تھرمل پاور، اور ایل این جی میں مشترکہ منصوبہ جات پر پیش رفت تیز کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے بارٹر سسٹم جیسے جدید تجارتی طریقوں پر ہونے والی حالیہ بات چیت کو سراہا اور کاروبار سے کاروبار روابط کو اہم قرار دیا ثقافتی اور تعلیمی تبادلوں کو وسعت دینے کے فروغ کے لئے چیئرمین سینیٹ نے تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی شراکت داری، ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون، طلبہ کے تبادلے اور ویزا پالیسی میں آسانیوں پیدا کرنے سے بہتری آ سکتی ہے.

سید یوسف رضا گیلانی نے پاک روس براہ راست پروازوں کی بحالی پر بھی خوشی کا اظہار کیا جس سے سیاحت اور تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے نئے امکانات کھلیں گے سید یوسف رضا گیلانی نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو بھی تفصیل سے اجاگر کیا انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں بھاری قیمت چکائی ہے میرا اپنا بیٹا تین سال تک یرغمال رہا پاکستان کی پہلی وزیراعظم خاتون محترمہ بینظیر بھٹو کو خودکش حملے میں شہید کیا گیا ہم فرنٹ لائن ریاست ہیں اور عالمی یکجہتی کے منتظر ہیں.

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور روس اسپیکرز کانفرنس کے رکن ہیں اور انٹر پارلیمنٹری اسپیکرز کانفرنس کے بانی چیئرمین کی حیثیت سے وہ آئی ایس سی اور فیڈریشن کونسل کے مابین مستقبل میں تعاون کے خواہاں ہیں تاکہ مکالمے اور روابط کو مزید فروغ دیا جا سکے چیئرمین سینیٹ نے علاقائی امن کی تشکیل میں پارلیمانی سفارت کاری کی اہمیت کو اجاگر کیا اور فرینڈشپ گروپ کی سرگرمیوں میں تیزی لانے پر زور دیا ملاقات میں فیڈریشن کونسل کے نائب چیئرمین کانسٹنٹین کوساچیف، سینیٹ آف پاکستان اور فیڈریشن کونسل کے مابین تعاون کے گروپ کے سربراہ ولادیمیر چیزہوف، روس میں پاکستان کے سفیر خالد محمد جمالی، اور چیئرمین سینیٹ کے مالیاتی مشیر اعزاز خان بھی موجود تھے.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انہوں نے کہا کہ پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے چیئرمین سینیٹ نے فیڈریشن کونسل پاکستان اور ہے انہوں نے پاکستان نے پر زور دیا زور دیا کہ تعاون کے کے مابین کیا اور کے فروغ اور روس ہے اور کے لیے

پڑھیں:

علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی

اسلام ٹائمز: موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔ تحریر: عبداللہ البحرانی

مملکتِ بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کے اقدامات میں نمایاں شدت آ گئی ہے، جو وسیع پیمانے پر گرفتاریوں، شہریت کی منسوخی اور مذہبی شعائر پر پابندیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ مرآۃ البحرین کے حوالے سے عبداللہ البحرانی نے لکھا کہ یہ پیش رفت ایک ایسے حساس علاقائی ماحول میں رونما ہو رہی ہے جہاں داخلی سلامتی کے خدشات بدلتے ہوئے علاقائی اتحادوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، خصوصاً اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد۔ اس رپورٹ کا مقصد سرکاری بیانات، انسانی حقوق کے اداروں کے ردِعمل اور سرکاری مؤقف کے تقابلی جائزے کے ذریعے اس مہم کے سیاسی اور قانونی پہلوؤں کا تجزیہ کرنا ہے۔

تاریخی اور سیاسی پس منظر:
انہوں نے لکھا کہ بحرین میں حکومت اور شیعہ اکثریتی آبادی، جو ملک کی اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے، ان کے درمیان کشیدگی ایک طویل عرصے سے موجود ہے۔ اس کشیدگی کی جڑیں سیاسی نمائندگی، اصلاحات کے مطالبات اور امتیازی سلوک کے الزامات میں پیوست ہیں۔ یہ تناؤ خاص طور پر 2011ء کے عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد بڑھ گیا، جب احتجاجی تحریک کو سخت سکیورٹی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا اور شیعہ کارکنان اور علمائے دین کو نمایاں طور پر نشانہ بنایا گیا۔

حالیہ پیش رفت، مئی 2026 کی مہم:
البحرانی کے مطابق مئی 2026 کے آغاز میں بحرین کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرنے والے بحرینی شہریوں کے ایک گروہ سے متعلق کارروائی کی گئی ہے اور 41 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان افراد پر جارحیت کا جواب دینے کے حوالے سے ایران کے مؤقف سے ہمدردی کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ اعلان بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے اپریل 2026 کے اواخر میں دیے گئے اس بیان کے فوراً بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بحرینی شہریت کوئی ایسا کاغذ نہیں جو محض عطا کر دیا جائے، بلکہ یہ ایک عہد و پیمان ہے، اور جو اس عہد کو توڑے گا وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے حق کو ساقط کر دے گا۔ اس بیان کو شہریت کی منسوخی کی دھمکی کے طور پر دیکھا گیا۔ بعد ازاں مئی 2026 کے آغاز میں حکومت نے 69 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے جاری کیے، جن میں بعض کے اہلِ خانہ بھی شامل تھے۔ اسی طرح پانچ افراد کو عمر قید اور مزید 24 افراد کو پانچ سے دس سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان تمام افراد پر ایران کے ردِعمل کی حمایت یا تائید سے متعلق الزامات عائد کیے گئے تھے۔

مذہبی آزادیوں اور انسانی حقوق پر پابندیاں:
البحرانی کے مطابق یہ مہم صرف سکیورٹی پہلو تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کو بھی متاثر کیا ہے۔ تنظیم Americans for Democracy & Human Rights in Bahrain (ADHRB) نے مارچ 2026 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے دوران بحرین میں شیعہ مذہبی رسومات پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی مذمت کی۔ تنظیم نے کعبہ کے ماڈل اور دیگر مذہبی علامات کو ہٹانے، نیز المعامیر گاؤں میں مذہبی تقریبات میں شرکت کرنے والوں کی طلبی اور گرفتاریوں کی نشاندہی کی۔ انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق یہ اقدامات کوئی نئی بات نہیں بلکہ 2011ء سے شیعہ اکثریتی آبادی کے حقوق پر جاری دباؤ کا تسلسل ہیں، جن میں مساجد کی بندش، نمازِ جمعہ پر پابندیاں اور مذہبی مناسبات کے انعقاد میں رکاوٹیں شامل ہیں۔

سیاسی اور قانونی پہلو:
البحرانی کا کہنا ہے کہ موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔

علاقائی حالات سے فائدہ اٹھانے کی عوام دشمن پالیسی:
البحرانی نے مزید لکھا کہ یہ داخلی مہم خطے میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل ایک جانب اور ایران دوسری جانب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، جو فروری 2026 میں مسلح تصادم تک جا پہنچی۔ ان کے مطابق بحرینی حکومت اس ماحول کو داخلی سکیورٹی کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور ایران کے حامی سمجھے جانے والے کسی بھی عوامی یا مذہبی رجحان کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل ایک نئی علاقائی سکیورٹی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کی بنیاد اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی، ایران کے ساتھ سیاسی و سکیورٹی مخالفت اور اس مؤقف سے اختلاف رکھنے والی عوامی یا مذہبی سرگرمیوں کو جرم قرار دینے پر رکھی گئی ہے۔

چند تجاویز:
البحرانی کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے یا بیرونی فریقوں سے تعلقات کے نام پر بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانا انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں، خصوصاً مذہبی آزادی، آزادیِ عقیدہ اور حقِ شہریت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مذہبی شناخت کو سکیورٹی خطرے سے جوڑنے کا عمل خوف اور عدم استحکام کی فضا پیدا کرتا ہے اور بحرینی معاشرے کے سماجی تانے بانے کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ البحرانی نے سفارشات پیش کی ہیں کہ من مانی گرفتاریوں اور شہریت کی منسوخی کا فوری خاتمہ کیا جائے، جن شہریوں کی شہریت منسوخ کی گئی ہے، انہیں ان کا حق واپس دیا جائے، مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کا مکمل احترام کیا جائے، شیعہ مذہبی شعائر اور رسومات پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، بحرین اپنے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں اور ذمہ داریوں کی پابندی کرے، معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت سے ایک جامع قومی مکالمہ شروع کیا جائے تاکہ کشیدگی کے اسباب کا جائزہ لے کر قومی مفاہمت کی راہ ہموار کی جا سکے، مضمون کے اختتام پر البحرانی نے زور دیا کہ پائیدار استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے جامع اور بامعنی قومی مذاکرات ناگزیر ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ