پہلگام حملے کی عالمی انکوائری: دہشتگردی کی جڑیں افغانستان میں موجود خوارج سے جڑی نکلیں
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سینئر صحافی و کالم نگار سہیل وڑائچ نےپہلگام واقعہ کے حوالے سے اہم انکشاف کرتے ہوئے کہاکہ پہلگام دہشت گردی کے واقعہ کی غیرجانبدارانہ بین الاقوامی انکوائری کے نتائج منظر عام پر آ گئے ہیں، جن میں پاکستان کو بری الذمہ قرار دیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ کئی عالمی طاقتوں نے آزادانہ طور پر واقعہ کی تحقیقات کرائیں اور ان کے نتائج بھارت اور پاکستان دونوں کو پہنچا دیے گئے ہیں۔انکوائری رپورٹ کے مطابق پہلگام واقعہ کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود ان طالبان گروہوں نے کی، جو اس وقت پاکستان کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ پاکستان کی جانب سے حالیہ دنوں میں افغان طالبان کے خلاف شدید دباؤ ڈالا گیا، جس کے نتیجے میں درجنوں دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ اس دباؤ سے بچنے کے لیے طالبان نے کشمیر میں موجود اپنے پرانے نیٹ ورکس کو دوبارہ متحرک کیا اور پہلگام حملے کی منصوبہ بندی کی۔عالمی انکوائری کے مطابق طالبان کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کو ہوا دی جائے تاکہ پاکستانی فوج کی توجہ مغربی سرحد سے ہٹ کر مشرقی سرحد پر مرکوز ہو جائے اور طالبان کو سانس لینے کا موقع ملے۔سہیل وڑائچ کے مطابق انکوائری رپورٹ نے بین الاقوامی سطح پر رائے عامہ کو بدل دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اس بار پاکستان کا مؤقف مکمل طور پر شفاف اور دفاعی نوعیت کا رہا۔ رپورٹ نے بھارتی بیانیے کو شدید دھچکا دیا ہے، خاص طور پر مودی حکومت کے جنگی جنون اور الزام تراشی کی سیاست کو۔انہوں نے کہاکہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد نہ صرف بین الاقوامی برادری کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے بلکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں کمی اور سیزفائر کی طرف بڑھنے کے امکانات بھی روشن ہوئے ہیں۔
Post Views: 7.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔