واشنگٹن : 1960 میں، امریکی ماہر معاشیات رابرٹ ٹریفن نے یہ نظریہ پیش کیا کہ چونکہ امریکی ڈالر سونے سے منسلک ہے اور دوسرے ممالک کی کرنسیاں امریکی ڈالر سے جڑی ہوئی ہیں، اور امریکی ڈالر نے بین الاقوامی مرکزی کرنسی کا درجہ حاصل کر لیا ہے، لیکن دیگر ممالک کو بین الاقوامی تجارت کے لیے امریکی ڈالر کو تصفیہ اور ذخیرہ کرنسی کے طور پر استعمال کرنا پڑتا ہے۔

اس سے امریکہ سے باہر امریکی ڈالر کی گردش مسلسل بڑھتی جائے گی، جس کے نتیجے میں امریکہ کا بیرونی ادائیگیوں کا توازن طویل المدتی خسارے کا شکار ہو جائے گا۔ دوسری طرف، امریکی ڈالر کو بین الاقوامی کرنسی کے طور پر برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی قدر مستحکم رہے، جس کے لیے امریکہ کو طویل المدتی تجارتی سرپلس رکھنا ہوگا۔ یہ دو متضاد تقاضے “ٹریفن ڈلیما” (Triffin Dilemma) کہلاتے ہیں۔ واقعی یہ ایک مسئلہ ہے، اور صرف ایک مسئلہ ہے جو امریکہ کے سیاسی اور معاشی ڈھانچے کے گہرے مسائل میں سے ایک ہے۔ اس کا حل کیا تجارتی جنگ ہے ؟

ایسا لگتا ہے کہ نہیں۔ حال ہی میں چین اور امریکہ نے ٹیرف تنازع پر اہم اتفاق رائے اور ٹھوس پیشرفت کا اعلان کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کو اپنی غلطیوں کا احساس ہوا ہے۔ لیکن معاملہ اتنا آسان نہیں۔ امریکہ اور چین، نیز پوری دنیا کے درمیان تنازعات اب ٹیرف کی سطح سے آگے بڑھ کر تجارتی عدم توازن، ٹیکنالوجی کی رکاوٹوں، بلکہ امریکی ڈالر کی بالادستی جیسے گہرے ڈھانچہ جاتی مسائل تک پہنچ چکے ہیں۔ اصل چیلنج ابھی سامنے آنا باقی ہے۔ امریکہ کی عالمی سطح پر ٹیرف جنگ کے پیچھے ٹرمپ کے معاشی مشیر اسٹیفن ملن کا تیار کردہ منصوبہ “مار-اے-لاگو معاہدہ” (Marl-a-Lago Agreement) نظریاتی بنیاد اور حکمت عملی فراہم کرتا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی نکتہ یہ ہے:امریکی ڈالر کی قدر میں کمی امریکی مینوفیکچرنگ کو بحال کرنے میں مددگار ہوگی؛ ٹیرف کی “سزا” اور قومی سلامتی کی فراہمی کی “جزا” کے ذریعے تجارتی شراکت داروں کو اپنے امریکی ڈالر کے ذخائر میں سے کچھ فروخت کرنے اور اپنی کرنسی میں اثاثے خریدنے پر مجبور کیا جائے، تاکہ امریکی ڈالر کی قدر کم ہو۔ ڈالر کی قدر میں کمی کے دوران امریکی قرضوں کے سود کے خطرے سے بچنے کے لیے، تجارتی شراکت داروں کو قلیل مدتی امریکی ٹریژری بانڈز کے بجائے طویل مدتی امریکی بانڈز خریدنے پر مجبور کیا جائے، تاکہ طویل مدتی شرح سود کم ہو اور معیشت اور مالیاتی بازار مستحکم رہیں۔ آخر میں، امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کے دوران، فیڈرل ریزرو مختلف اقدامات کرے تاکہ مالیاتی بازار کو مستحکم کیا جا سکے اور منظم طور پر امریکی ڈالر کی قدر کم کی جا سکے۔

مختصراً یہ کہ، امریکی ڈالر کی قدر کی کمی، قرضوں کو منظم کرنے، اور سلامتی کے اشتراک کے ذریعے امریکی معاشی و عسکری بالادستی پر مبنی “تجارت-سلامتی-کرنسی” نظام قائم کیا جائے۔ لیکن اس منصوبے کے بنیادی تضادات واضح ہیں۔ مثال کے طور پر، امریکی ڈالر کی قدر میں کمی سے برآمدات کو فروغ دینے کی کوشش کرنا، جبکہ اسے ذخیرہ کرنسی کے طور پر بھی برقرار رکھنا، خود ایک تضاد ہے۔ “ٹریفن ڈلیما” امریکی ڈالر کی بالادستی کا پیدا کردہ ایک ڈھانچہ جاتی مسئلہ ہے۔ مزید یہ کہ، کیا معاشی اور قومی سلامتی کے مسائل کو گڈمڈ کر کے حل کیا جا سکتا ہے؟امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کا مطلب ہے کہ امریکیوں کو کم خرچ کرنا اور زیادہ محنت کرنا ہوگی،کیا یہ قابل عمل ہے؟ کثیر القطبی دنیا کے حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے مالیاتی پابندیوں اور فوجی جبر کے ذریعے بالادستی برقرار رکھنے کی کوشش صرف امریکہ کے بین الاقوامی اعتماد کو تیزی سے تباہ کرے گی۔

اسٹیفن ملن نے اس منصوبے کو “بریٹن ووڈز معاہدے سے بھی عظیم” قرار دیا ہے، لیکن اگر “عظیم” کہنا ہو تو یہ اتنا آسان نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے مفادات کو عالمی اصولوں سے بالاتر سمجھتا ہے، یکطرفہ دباؤ کو مساوی مذاکرات کا متبادل بناتا ہے، اورسیاتی دھونس، فوجی دباؤ اور مالیاتی ہیرا پھیری کے ذریعے ڈھانچہ جاتی مسائل کو چھپاتا ہے۔ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ ایسی حکمت عملیاں صرف تنہائی کو بڑھاتی ہیں۔

اگر امریکہ واقعی اس مشکل سے نکلنا چاہتا ہے، تو اسے کثیرالجہتی نظام کی طرف واپس آنا ہوگا، عالمی تجارتی ادارے (WTO) کے اصولوں کا احترام کرنا ہوگا، “قومی سلامتی” کے تصور کو غیر ضروری طور پر وسیع کرنے سے باز آنا ہوگا، یکطرفہ پابندیاں ختم کرنا ہوں گی، تنازعات کے حل کے نظام کو بحال کرنا ہوگا، اور “امریکہ فرسٹ” کی پالیسی ترک کر کے تجارتی خسارے، صنعتی پالیسی جیسے معاملات پر تمام ممالک کے ساتھ مشترکہ تعاون اور جیت جیت کی راہ تلاش کرنا ہوگی۔ مغرب صرف علم کو اہمیت دیتا ہے، جبکہ مشرق عقل و دانش مندی کو بھی فوقیت دیتا ہے۔ علم سکھایا جا سکتا ہے، لیکن عقل و دانش مندی صرف خودشناسی اور مراقبے کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے ۔ اگر امریکہ دنیا کے ساتھ ہم آہنگی سے رہنے کی عقل نہیں سیکھتا اور “جزا و سزا” کی پالیسی پر قائم رہتا ہے، تو آخرکار وہ اپنے ہی بنائے ہوئے جال میں پھنس جائے گا۔ بالآخر، 21ویں صدی میں عالمی حکمرانی زیرو سم کا کھیل نہیں، بلکہ کثیر الجہتی بقاءاور عقل و دانش مندی کا مقابلہ ہے۔

 

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: امریکی ڈالر کی قدر میں کمی بین الاقوامی کہ امریکی کے طور پر کے ذریعے کیا جا کے لیے

پڑھیں:

عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی

عالمی منڈی میں سونے کی قیمت(Gold Rates) مسلسل دوسرے روز بھی دباؤ کا شکار رہی، کیونکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ مہینوں میں شرح سود بڑھانے کے امکانات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.4 فیصد کمی کے بعد 4,030.09 ڈالر فی اونس رہ گئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.4 فیصد کم ہو کر 4,033.20 ڈالر فی اونس پر آ گئے۔

مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سونا ہفتہ وار بنیاد پر معمولی اضافے کی جانب گامزن ہے، تاہم بلند شرح سود کے خدشات کے باعث اس کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔

مزیدپڑھیں:پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ

 ماہرین کا کہنا ہے کہ جب شرح سود میں اضافے کی توقع ہوتی ہے تو سونے جیسی ایسی سرمایہ کاری، جس پر منافع یا سود نہیں ملتا، نسبتاً کم پرکشش ہو جاتی ہے۔

سرمایہ کاروں کی نظریں اب آئندہ ہفتے ہونے والے امریکی فیڈرل ریزرو کے پالیسی اجلاس پر مرکوز ہیں۔ مارکیٹ کی توقع ہے کہ اس اجلاس میں شرح سود برقرار رکھی جائے گی، تاہم ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات بدستور مضبوط سمجھے جا رہے ہیں

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل