روہنگیا پناہ گزینوں کو سمندر میں پھینکنے پر بھارت کے خلاف تحقیقات شروع
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
میانمار میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اقوام متحدہ کے نمائندے ٹام اینڈریوز نے بھارت کی بحری فوج کے جہاز سے روہنگیا پناہ گزینوں کو جبراً سمندر میں دھکیل کر ان کی جان کو خطرے میں ڈالنے کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: روہنگیا مسلمانوں کی مدد کے لیے ایک ارب ڈالر درکار، اقوام متحدہ کی اپیل
ٹام اینڈریوز نے کہا ہے کہ ایسا اقدام بے حسی پر مبنی اور ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے متبنہ کیا کہ انڈیا کی حکومت روہنگیا پناہ گزینوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک اور انہیں ملک بدر کر کے میانمار بھیجنے سے گریز کرے جہاں انہیں خطرناک حالات کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ ہفتے انڈیا کے حکام نے دہلی میں مقیم درجنوں روہنگیا پناہ گزینوں کو گرفتار کیا تھا جن میں سے بیشتر یا تمام لوگوں کے پاس بطور پناہ گزین شناختی دستاویزات بھی موجود تھے۔
ان میں سے تقریباً 40 لوگوں کو آںکھوں پر پٹی باندھ کر ہوائی جہاز کے ذریعے انڈیمان اور نکوبار جزائر کی جانب بھیجا گیا اور پھر انڈیا کی بحری فوج کے ایک جہاز پر سوار کرا دیا گیا۔ جب اس جہاز نے بحیرہ انڈیمان عبور کیا تو انہیں لائف جیکٹیں پہنا کر میانمار کے ساحل کی جانب سمندر میں دھکیل دیا گیا۔
کہا جا رہا ہے کہ یہ پناہ گزین تیر کر ساحل تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے لیکن تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اب وہ کہاں اور کس حال میں ہیں۔
ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ انڈیا کی ریاست آسام میں حکام نے ایک حراستی مرکز سے تقریباً 100 روہنگیا پناہ گزینوں کو نکال کر کر بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب علاقے میں بھیجا ہے۔ ان لوگوں کی موجودہ حالت کے بارے میں بھی تاحال مزید معلومات سامنے نہیں آئیں۔
حق زندگی کی پامالیاقوام متحدہ کے غیر جانبدار نمائندے نے واضح کیا ہے کہ روہنگیا پناہ گزینوں کو جہاز سے اتار کر سمندر میں دھکیلنا وحشیانہ طرزعمل ہے۔ اس واقعے کے بارے میں مزید اطلاعات کا انتظار ہے اور انڈیا کی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس بارے میں تمام صورتحال سے آگاہ کرے۔
مزید پڑھیے: روہنگیا مسلمانوں پر میانمار فوج کا ڈرون حملہ، 200 سے زائد جاں بحق
انہوں نے اس واقعے کو زندگی کے حق اور عالمی تحفظ کے حقدار لوگوں کی حفاظت سے متعلق ذمہ داری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات انسانی شائستگی کے منافی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ انڈیا کا یہ اقدام پناہ گزینوں کو ان کی مرضی کے خلاف ملک بدر کر کے ایسی جگہ بھیجنے کی ممانعت کی خلاف ورزی بھی ہے جہاں ان کی جان یا آزادی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
بھارتی حکومت کو خطٹام اینڈریوز نے 3 مارچ کو انڈیا کی حکومت کے نام خط میں پناہ گزینوں اور پناہ کے خواہش مند روہنگیا لوگوں کو بڑے پیمانے پر ناجائز طور سے حراست میں لینے اور نامعلوم مدت تک قید میں رکھے جانے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
مزید پڑھیں: میانمار: فوج کے مظالم کا مقابلہ منفرد انداز میں کرنے والا نوجوان
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان لوگوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ روکے اور حراستی مراکز تک رسائی مہیا کرے تاکہ انہیں درپیش حالات کے بارے میں علم ہو سکے۔
انہوں نے انڈیا کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ملک کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کا محاسبہ یقینی بنائے۔
واضح رہے کہ غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بھارت بھارت کے خلاف انکوائری روہنگیا روہنگیا پناہ گزین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ بھارت روہنگیا روہنگیا پناہ گزین انڈیا کی حکومت اقوام متحدہ کے انہوں نے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔