انکم ٹیکس، شہریت اور سول سرونٹس ترمیمی بلز کثرت رائے سے منظور
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)قومی اسمبلی نے انکم ٹیکس، شہریت، سول سرونٹس اور ملزمان کی حوالگی سے متعلق ترمیمی بل کی کثرت رائے سے منظوری دے دی۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے انکم ٹیکس ترمیمی بل 2024 ایوان میں پیش کیا جسے قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے منظور کر لیا جبکہ اپوزیشن نے بل کی مخالفت کی۔
ایوان نے پاکستان شہریت ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کرلیا، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بل پیش کیا۔
ملزمان کی حوالگی سے متعلق ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا، قومی اسمبلی نے سول سرونٹس ترمیمی بل 2025 کثرت رائے سے منظور کرلیا۔
میرے لئے تیل کا صرف ایک قطرہ، ٹرمپ کا ابوظہبی میں اماراتی میزبانوں سے شکوہ
جام کمال کی جانب سے پیش انسداد اغراق محصولات ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور دیدی گئی، قومی اسمبلی نے عطائے شہریت ترمیمی بل کی کثرت رائے سے منظوری دے دی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی نے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔