محبت کی شادی پر رنج، افغان جوڑے کو پشاور میں بےدردی سے قتل کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
پشاور:
دیر کالونی میں سفاک قاتل نے پسند کی شادی کرنے والے بھانجے اور بھتیجی کو ان کے گھر کے اندر فائرنگ کرکے قتل کر دیا اور جائے وقوع سے فرار ہوگیا۔
پشاور میں تھانہ رحمان بابا پولیس کو رپورٹ درج کراتے ہوئے مقتول کے 19سالہ بھائی طارق حکیم نے بتایا کہ ان کے 18سالہ بھائی عدنان اور ان کی اہلیہ کی ایک سال قبل پسند کی شادی ہوئی جبکہ کرم میں مقیم افغانستان سے تعلق رکھنے والے ان کے ماموں سردار کو اس پر رنج تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے مقتول بھائی اپنی اہلیہ کے ہمراہ غفورآباد دیرکالونی میں رہائش پذیر تھے۔
درخواست گزار نے بتایا کہ ماموں 4روزقبل ان کے گھر آیا تھا اور وہ والدہ کے ہمراہ مکان کے پیچھے پورش میں موجود تھے جبکہ بھائی، بھابی اور ماموں اوپر کی منزل میں اپنے کمروں میں موجود تھے اس دوران فائرنگ کی آواز سن کر وہ اوپر گیا تو ماموں نے بھائی اور بھابی کو فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا اور فرار ہوگیا تھا۔
انہوں نے بتایاکہ مقتولین نے پسند کی شادی کی تھی، پولیس نے لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا اور ایف آئی آر میں غیرت کے نام پر قتل کی دفعہ 311 اور اقدام قتل 302 شامل کرکے فرار ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق مقتول عدنان اور مقتولہ آپس میں ماموں زاد تھے، پسند کی شادی کے بعد ماموں کے ساتھ مقتول کاجرگہ بھی ہوا اور صلح ہوگئی تھی تاہم مقتول کے ماموں جو مقتولہ کا چچا ہے، وہ اس سے ناخوش تھا اور اس نے دونوں کی جان لی اور فرار ہوگیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پسند کی شادی
پڑھیں:
افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ
کراچی (سٹاف رپورٹر) جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں افغان شہریوں کے لیے مبینہ طور پر جعلی شناختی دستاویزات تیار کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ ایف آئی اے نے مقدمے میں گرفتار چار ملزم انعام الحق، فیاض احمد سانگی، جنید اور محمد عمر کو عدالت میں پیش کیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی دستاویزات بنانے کی غرض سے سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کرتے تھے۔ عدالت نے ملزموںکو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔