سینما کلچر کا زوال: پشاور کا قدیم سینما ’پکچر ہاؤس‘ بھی مسمار کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
پشاور کے مشہور ’سینما روڈ‘ پر واقع شہر کے سب سے پرانے اور آخری فعال سینما ’پکچر ہاؤس‘ کو بھی مسمار کر دیا گیا ہے، یہ پچھلے 5 ماہ کے دوران تیسرا سینما ہے جو پشاور میں گرا دیا گیا۔
تاریخی ’قصہ خوانی بازار‘ کے ساتھ واقع سینما روڈ جو کسی زمانے میں متعدد سینما گھروں کی موجودگی کے باعث مشہور ہوئی تھی، اب اپنے تمام سینما گھروں سے محروم ہو چکی ہے۔ ’پکچر ہاؤس‘ ان میں سب سے قدیم سینما تھا، جسے مالکان نے منہدم کرکے کمرشل پلازہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں سلطان راہی فلم انڈسٹری کی تباہی کے ذمہ دار کیوں ہیں؟
سینما کے ایک پرانے ملازم نے بتایا کہ ’پکچر ہاؤس‘ 100 سال سے بھی زیادہ پرانا تھا اور یہاں کبھی پشتو، اردو اور دیگر زبانوں کی فلمیں چلا کرتی تھیں۔ ان کے مطابق ’پشتو فلمیں بننا بند ہو گئی ہیں، اردو فلمیں بھی نہیں بن رہیں، تو سینما میں کیا دکھائیں؟‘
انہوں نے بتایا کہ سینما روڈ پر تین سینما گھر ہوا کرتے تھے، جو اب سب کے سب ختم ہو چکے ہیں۔
’پشاور شہر میں کبھی 15 سینما گھر ہوتے تھے، لیکن اب صرف 2 رہ گئے ہیں، اور ان میں بھی فلموں کی عدم دستیابی کے باعث اسٹیج ڈرامے دکھائے جا رہے ہیں تاکہ کسی حد تک اخراجات پورے کیے جا سکیں۔‘
سینما کے ملازم کے مطابق کورونا وبا کے بعد حالات مزید خراب ہو گئے اور فلم سازی قریباً بند ہو گئی۔ ’پشاور کے سینما گھروں کی بقا پشتو فلموں پر تھی، جو اب نہیں بن رہیں، اور شائقین کی تعداد بھی روز بروز کم ہو رہی ہے۔‘
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اگر یہی حالات رہے تو چند سالوں بعد شاید پشاور میں ایک بھی سینما گھر باقی نہ بچے۔
سینما سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ پشاور کا فلمی اور ثقافتی ورثہ بہت مضبوط رہا ہے۔ یہ شہر دلیپ کمار، کپور خاندان اور شاہ رخ خان جیسے بالی وڈ اسٹارز کا آبائی علاقہ ہے، اور یہاں کے لوگ فلموں کے شوقین رہے ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال پر وہ شکوہ کرتے ہیں کہ پشاور میں سینما کلچر کو برا سمجھا جاتا ہے، جو اس زوال کی ایک بڑی وجہ ہے۔
یہ صرف ’پکچر ہاؤس‘ کا معاملہ نہیں، بلکہ پچھلے 5 ماہ میں یہ تیسرا سینما ہے جو ختم کیا گیا، اس سے قبل ’ناز‘ اور ’صدر‘ کے سینما گھروں کو بھی منہدم کر کے وہاں پلازے تعمیر کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں 1 لاکھ 59 ہزار ڈالر فی لفظ کمانے والا اداکار، فلاپ فلم نےبھی 150 ملین ڈالر کما لیے
شوبز رپورٹر امجد خان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی نے سینما انڈسٹری کو بری طرح متاثر کیا ہے، مگر معیاری فلموں کا نہ بننا بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ ’پشاور میں سینما ہونا معیوب سمجھا جاتا ہے، اور یہ سوچ بھی سینما کلچر کے زوال کا حصہ ہے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پشاور پشتو فلمیں پکچر ہاؤس سینما روڈ سینما کلچر سینما مسمار فلمیں وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پشاور پشتو فلمیں سینما روڈ سینما کلچر فلمیں وی نیوز سینما گھروں سینما کلچر پشاور میں سینما روڈ
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔