اب موقع حکومت مقبوضہ کشمیر کی طرف پیش قدمی کا اعلان کرے: حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
راولاکوٹ(آئی این پی) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے نواز شریف کو بھارت دوست لیڈر قرار دیتے کہا کہ کرتار باڈر کھول کر یہ تاثر دینا کہ مشرقی پنجاب اور ہمارے پنجاب کی ثقافت اور کلچر ایک ہے اس آڑ میں شریف برادران سٹیل ملز کا بزنس بڑھائیں کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا انہوں نے عرب حکمرانوں کی بے حسی کی وجہ سے آج فلسطین سے کشمیر تک تباہی ہو رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار حافظ نعیم الرحمن نے راولاکوٹ میں تقریب سے خطاب کرتے کیا۔ اب موقع ہے کہ حکومت پاکستان مقبوضہ کشمیر کی طرف پیش قدمی کا اعلان کرے تاکہ جموں کشمیر کو بھارت سے چھین کر پاکستان کا حصہ بنایا جا سکے جماعت اسلامی پاکستان کا بڑا واضع موقف ہے کہ ہمیں فارم 47کے ذریعہ بننے والی شہباز شریف اور زرداری کی حکومت جس طرح قبول نہیں اسی طرح ہم کشمیر پر امریکہ کے کسی مسلط کردہ فیصلہ کو بھی نہیں مانیں گے جنرل عاصم منیر نے مودی کو جو جواب دیا اس کے باعث کشمیر سے منی پور ناگا لینڈ تک تحریکیوں کو تقوعیت ملی ‘ بنگلادیش پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔