بھارت بوکھلاہٹ کا شکار، فتنہ الہند کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے، عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
خضدار میں سکول بس حملہ میں شہید اور زخمی ہونے والے بچوں کے والدین سے ملاقات کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے حوالے سے حکمت عملی بن رہی ہے، تمام سیاسی جماعتیں،ادارے مل کر بلوچستان میں امن قائم کریں گے، قوم متحد ہے، دشمن کے ہر وار کا مقابلہ کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بھارت بڑی شکست کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہے، ہم فتنہ الہند کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔خضدار میں سکول بس حملہ میں شہید اور زخمی ہونے والے بچوں کے والدین سے ملاقات کے بعد عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ہمارے بچوں نے ایک بار پھر قربانی دی، والدین اپنا سب کچھ وطن پر قربان کرنےکے لیے تیار ہیں، ان کےحوصلے اور عزم کو سراہتا ہوں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کلبھوشن کا پکڑا جانا ثبوت ہے کہ بھارت دہشت گردی میں ملوث ہے، مودی کا خطاب شکست سے بچنے کے لیے فیس سیونگ ہے، پاکستان کے بھرپور جواب کے بعد مودی کو چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی، ایسے قوانین بنائے جائیں کہ دہشتگردوں کا ٹرائل ہو تو وہ بچ نہ سکیں۔
عطااللہ تارڑ نے بتایا کہ بلوچستان کے حوالے سے حکمت عملی بن رہی ہے، تمام سیاسی جماعتیں،ادارے مل کر بلوچستان میں امن قائم کریں گے، قوم متحد ہے، دشمن کے ہر وار کا مقابلہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت اپنی پراکسیز کےذریعے پاکستان کو غیرمستحکم کرنا چاہتا ہے، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا عزم ہے کہ بلوچستان امن کا گہوارہ بنے، دہشت گردوں کا پورے عزم کے ساتھ قلع قمع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بنارہا ہے، یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بھارت بلوچستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہ بھارت کریں گے کے بعد
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔