سینٹ: ترمیمی بل پیش، صدر، نیوی اہلکاروں کی تعداد بڑھا سکیں گے، سول کورٹس بل منظور
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار+ نوائے وقت رپورٹ) ایوان بالا نے سول کورٹس ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیا، جبکہ دیگر بلز متعلقہ کمیٹیوں کے سپرد کردئیے گئے۔ اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے وفاقی وزیر کی عدم موجودگی اور بل کی وضاحت نہ ہونے پر شدید اعتراض کیا۔ جمعہ کو سینٹ اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی شزرہ منصب نے سول کورٹس ترمیمی بل 2025ء پیش کیا۔ اس موقع پر اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے ایوان کو بل کے حوالے سے اگاہ کرنے کا مطالبہ کیا جس پر وزیر مملکت شزرہ منصب نے کہا کہ یہ بل صوبوں میں منظور ہوچکا ہے۔ اب وفاق کی سطح پر پیش کیا گیا ہے اور یہ بل متعلقہ کمیٹی سے منظور ہوچکا ہے۔ اس موقع پر پریذائیڈنگ آفیسر سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے کہاکہ ہمیں قانون سازی کا راستہ نہیں روکنا چاہیے۔ اس موقع پر سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے کہا کہ کمیٹی کی جانب سے بل کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد اس پر ایوان میں بحث ہونی چاہیے۔ وزیر مملکت شزرہ منصب علی خان نے فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیت ترمیمی بل 2025پیش کیا۔ بل کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔ وزیر مملکت شزرہ منصب علی خان نے ایکسٹرڈیشن ایکٹ ترمیمی بل 2025پیش کیا۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے سینیٹر محسن عزیز نے کہاکہ ایوان میں جو بل پیش ہوتے ہیں ان کو متعلقہ کمیٹی میں بھجوانے سے قبل ایوان میں اس حوالے سے اراکین کو آگاہ کیا جاتا ہے تاکہ اگر کوئی رکن اس حوالے سے کوئی سفارش دینا چاہے تو وہ کمیٹی اجلاس میں جاسکتا ہے۔ اس موقع پر اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ جو طریقی کار اختیار کیا جارہا ہے یہ درست نہیں ہے۔ میری درخواست ہے کہ بل کو موخر کرکے اس حوالے سے ایوان کو آگاہ کیا جائے۔ اس موقع پر وزیر شزرہ منصب علی خان نے پاکستان سٹیزن ایکٹ ترمیمی بل 2025پیش کیا۔ انہوں نے کہاکہ اس بل کا مقصد اگر کسی شخص کی قومیت ایسے ملک کی تھی جس سے پاکستان کی قومیت ختم ہوجاتی ہے تو وہ اب بحال ہوگی۔ پریذائیڈنگ آفیسر نے بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔ وزیر مملکت شزر ہ منصب علی خان نے سول سرونٹ ایکٹ ترمیمی بل پیش کیا۔ انہوں نے کہاکہ بل کا مقصد گریڈ 17سے اوپر کے افسران کے اثاثوں کو ظاہر کرنا ہے۔ پریذائیڈنگ آفیسر نے بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔ وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی ترمیمی بل پیش کیا۔ انہوں نے کہاکہ بل میں جو ترامیمم پہلے کی گئی تھی اس میں خامیاں پیدا ہوگئی تھی۔ اس موقع پر اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ یہ تین قوانین ہم نے 2015میں بنائے تھے۔ میری درخواست ہے کہ کسی ایک پراجیکٹ کیلئے قانون میں تبدیلی لارہے ہیں یہ غلط بات ہے۔ ہم نے تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے قانون میں یہ تبدیلیاں کی تھی۔ انہوں نے کہاکہ ہم اس قانون کی مخالفت کرتے ہیں۔ جس پر وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے کہاکہ اپوزیشن لیڈر کی بات ٹھیک ہے تاہم یہ گرانٹ ان ایڈ کے لئے کی جارہی ہے۔ اس موقع پر پریذائیڈنگ آفیسر نے بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔ وزیر مملکت شزرہ منصب علی خان نے پاکستان نیوی آرڈیننس ترمیمی بل پیش کیا۔ پاکستان نیوی آرڈیننس ترمیم کا بل سینٹ میں پیش کر دیا گیا۔ بل قومی اسمبلی سے منظور ہو چکا ہے۔ ترمیمی بل کے مطابق صدر مملکت پاکستان نیوی اور اس کے زیروز کو بڑھا سکیں گے۔ نیوی کا کنٹرول اور کمانڈ وفاقی حکومت کے پاس ہو گی۔ نیوی کا انتظام چیف آف نیول سٹاف کو تفویض ہو گا۔ طیاروں کی تعریف میں ہوائی جہاز‘ ائرشپ‘ گلائیڈرز اور دیگر اڑنے والی مشینیں شامل ہے۔ قافلے میں شامل کسی بحری جہاز کا انچارج قافلے کے کمانڈر کی ہدایت پر عمل کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ اس بل کا مقصد پاکستان نیوی کے بل میں ترامیم کرنا ہیں۔ پریذائیدنگ آفیسر نے بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔ ایوان بالا میں اراکین نے سندھ تاس اور شملہ معاہدہ کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کے قانونی ماہرین پر مشتمل کمیٹی بنانے کی تجویز دی ہے۔ اپوزیشن اراکین نے سندھ تاس معاہدے کی خلاف ورزی پر حکومت کو معذرت خواہانہ رویہ ترک کرکے انڈیا کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تحریک پر بحث کے موقع پر حکومتی وزراء اور سینیٹرز کی عدم موجودگی پر بھی اپوزیشن کی شدید تنقید کی۔ جمعہ کو ایوان بالا میں سندھ تاس معاہدہ کے حوالے سے تحریک پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے ایوان میں حکومتی وزرا اور سینیٹرز کی عدم موجودگی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ حکومت نے یہ تہیہ کررکھا ہے کہ ہندوستان کے خلاف کوئی بات نہیں کرنی ہے۔ پاکستان کے کاز کو بھی شرمندہ کیا جاتا ہے انہوں نے کہاکہ اس مسئلے کا اہم کردار حکومت ہے اور حکومت اس وقت غائب ہے۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی نے یہ ثابت کیا ہے کہ ملک کی بات آنے پر تمام تر اختلافات بھلا کر پاکستان کی کاز کیلئے کھڑے ہوجاتے ہیں انہوں نے کہاکہ اتنا اہم مسئلہ ایوان میں ڈسکس ہو رہا تھا کہ مگر حکومت کے اراکین موجود نہیں ہیں۔ سینیٹر علی ظفر نے کہاکہ پانی کا مسئلہ پاکستان کیلئے دہشت گردی کی طرح اہم مسئلہ ہے اور اس مسئلے کے حوالے سے حکومت کو اپوزیشن کو مکمل سنجیدگی دکھانی ہوگی۔ اگر ہم اس مسئلے کو حل نہیں کریں گے تو ہم بھوک سے مر جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری 10میں 9افراد دریائے سندھ کا پانی استعمال کرتی ہے اور ہمارے زیادہ تر ڈیم اسی پانی پر بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور ہندوستان کی تقسیم کے وقت ہندوستان نے پاکستان پر پانی کے ذریعے دبائو میں رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور جس دن پاکستان آزاد ہوا تو انڈیا نے پانی کو ہتھیار کی طرح استعمال کیا اور دریائے ستلج کا پانی بند کردیا۔ اقوام متحدہ کے آرٹیکل موجود ہیں۔ اسی طرح اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے بے تحاشہ قراردادیں ہیں جن میں بہت زیادہ حقوق دیے گئے ہیں اور اگر کوئی پانی کے زریعے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے تو وہ آپ کی زندگی کو نقصان پہنچاتا ہے جو کہ قانون میں جائز ہی نہیں ہے انہوں نے کہاکہ انڈیا کا یکطرفہ طور پر ٹریٹی کو نہ ماننے کی بات کی کوئی اثر نہیں ہے جب وہ ٹریٹی کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو بین الاقوامی قانون یہ کہتا ہے کہ آپ اپنی سیلف ڈیفنس میں ہر وہ کام کرسکتے ہیں جو ٹریٹی کو بچا سکتے ہیں اس کا مطلب ہے کہ اگر ہندوستان پانی کا ایک قطرہ بھی موڑے تو بین الاقوامی قانون کے مطابق ہم جاکر اپنے میزائلوں، جہازوں اور فوجیوں کے ذریعے اس کو تباہ کرسکتے ہیں۔ یہ بین الاقوامی قانون کے مطابق اعلان جنگ ہے۔ اس موقع پر سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہاکہ حکومت کا رویہ معذرت خواہانہ ہے۔ اگر انڈیا نے ہمارے ڈیم کو نشانہ بنایا تو ہم نے ان کے ڈیمز کو نشانہ کیوں نہیں بنایا ہے۔ سینیٹر کامران مرتضی نے کہاکہ ہندوستان نے پہلے بھی ہمارا پانی کا مسئلہ چل رہا ہے اور ہم وہ ہار چکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس دو باتیں ہیں ایک سندھ تاس کا معاہدہ اور دوسرا شملہ معاہدہ ہے اور شملہ معاہدہ میں ہم نے یہ طے کیا ہے کہ ہمیں اپنے مسائل خود طے کرنے ہونگے۔ میری تجویز یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں سے قانونی ماہرین ان معاہدوں کا مطالعہ کریں اور اس حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ ہم کیا کچھ کرسکتے ہیں۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایوان بالا کو بتایا ہے کہ حکومت سندھ تاس معاہدہ سمیت ہندوستان کے ساتھ دیگر مسائل پر کبھی بھی معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہیں کرے گی اور ہندوستان کی جانب سے کسی بھی جارحیت کا سخت جواب دیا جائے گا۔ بعدازاں اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نے بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا وزیر مملکت شزرہ منصب شزرہ منصب علی خان نے پریذائیڈنگ آفیسر انہوں نے کہاکہ ترمیمی بل پیش پاکستان نیوی اس حوالے سے نے کہاکہ ہم کے حوالے سے ایوان بالا وفاقی وزیر ایوان میں سندھ تاس پیش کیا ہے اور
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔