اگر ہر 4 دن بعد داڑھی رنگنی پڑے تو سمجھ لو کہ وقت آ گیا ہے، ویرات کوہلی کا ٹیسٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
مئی کے مہینے میں ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد ویرات کوہلی کا پہلا ردعمل سامنے آگیا ہے۔
لندن میں سابق بھارتی کرکٹر یوراج سنگھ کی جانب سے ‘یو وی کین فاؤنڈیشن’ کے لیے منعقدہ فنڈریزنگ ایونٹ کے دوران ویرات کوہلی نے پہلی بار ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ پر کھل کر بات کی۔ اس ایونٹ میں بھارتی ٹیم کے موجودہ کھلاڑیوں سمیت دنیا بھر کے معروف کرکٹرز نے شرکت کی جن میں یوراج سنگھ، روی شاستری، کیون پیٹرسن، کرس گیل اور ڈیرن گوف شامل تھے۔
اس موقع پر ویرات کوہلی نے کہا کہ میں نے 2 دن پہلے داڑھی رنگی تھی۔ اگر ہر 4 دن بعد داڑھی رنگنی پڑے تو سمجھ لو کہ وقت آ گیا ہے۔
انسٹاگرام پر ریٹائرمنٹ کا اعلانیاد رہے کہ ویرات کوہلی نے 12 مئی کو انسٹاگرام پر ایک طویل پوسٹ میں ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے لکھا تھا کہ اس فارمیٹ کو چھوڑنا آسان نہیں، لیکن صحیح لگ رہا ہے۔ میں نے اپنا سب کچھ دیا اور اس کھیل نے مجھے اس سے کہیں زیادہ واپس دیا۔ میں شکرگزاری کے جذبے کے ساتھ رخصت ہو رہا ہوں۔
ویرات کوہلی کا ٹیسٹ کیریئرویرات کوہلی نے 123 ٹیسٹ میچز کھیلے، 210 اننگز میں 9,230 رنز بنائے، اوسط 46.
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹیسٹ کرکٹ ردعمل ریٹائرمنٹ ویرات کوہلی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹیسٹ کرکٹ ریٹائرمنٹ ویرات کوہلی ویرات کوہلی نے سے ریٹائرمنٹ ٹیسٹ کرکٹ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔