سپریم کورٹ: مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی کیس، سماعت 29 مئی تک ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی کیس کی سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 11 رکنی آئینی بینچ نے کی، جس میں سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل کا آغاز کیا۔
فیصل صدیقی نے بینچ کے روبرو دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا بینچ ہے جس میں اکثریتی ججز نے اصل کیس نہیں سنا، اسی لیے وہ اپنا مقدمہ تفصیل سے بیان کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستوں سے متعلق 13 میں سے 11 ججز نے کہا تھا کہ یہ نشستیں تحریک انصاف کی بنتی ہیں، لہٰذا یہ فیصلہ صرف 8 ججز کا نہیں، بلکہ 11 ججز کا تھا۔ انہوں نے اعتراض اٹھایا کہ نظرثانی درخواست صرف اقلیتی فیصلے کے خلاف دائر کی گئی۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ نظرثانی کی درخواست میں جسٹس مندوخیل کے فیصلے پر انحصار کیا گیا ہے۔ فیصل صدیقی نے کہا کہ وہ 7 گزارشات عدالت کے سامنے رکھیں گے، جن میں پہلا نکتہ یہی ہے کہ اگر تحریک انصاف فریق نہیں تھی تو اسے ریلیف کیسے دیا گیا؟
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: مخصوص نشستیں کیس، لائیو نشریات اور بینچ پر اعتراضات زیر بحث
سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا انتخابی نشان نہ دینا الیکشن کمیشن کا فیصلہ تھا یا سپریم کورٹ کا، جس پر فیصل صدیقی نے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ تھا، سپریم کورٹ کے سامنے تو صرف انٹرا پارٹی انتخابات کا مقدمہ تھا۔ انہوں نے عدالت کے سامنے سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے کے پیراگراف بھی پڑھے۔
فیصل صدیقی نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم نہ کرتے ہوئے تحریک انصاف سے انتخابی نشان واپس لے لیا تھا، اور اسی بنیاد پر تنازع پیدا ہوا۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کو بطور جماعت تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا اور امیدواروں کو آزاد قرار دیتے ہوئے مختلف نشان جاری کیے گئے۔
جسٹس مسرت ہلالی نے سوال اٹھایا کہ کیا اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا؟ وکیل نے بتایا کہ سلمان اکرم راجا نے اسے چیلنج کیا اور معاملہ ہائیکورٹ سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ پہنچا۔ جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی نے خود ہی سمجھ لیا تھا کہ وہ ایک جماعت نہیں رہی۔
مزید پڑھیں: مخصوص نشستیں کیس: سنی اتحاد کونسل کی 3 متفرق درخواستیں دائر
وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے بچی ہوئی مخصوص نشستیں دوبارہ انہی جماعتوں کو دینے کا فیصلہ کیا، حالانکہ کمیشن کے ایک رکن نے اختلافی نوٹ دیتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک آئینی ترمیم نہ ہو، یہ نشستیں خالی رکھی جائیں۔
سنی اتحاد کونسل نے یہ فیصلہ پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا، جہاں سے معاملہ سپریم کورٹ پہنچا۔ وکیل کے مطابق 13 جنوری 2024 انتخابی نشان الاٹ کرنے کی آخری تاریخ تھی اور اسی روز سپریم کورٹ میں انٹرا پارٹی الیکشن کا مقدمہ زیر سماعت تھا، جو رات گئے تک جاری رہا۔
فیصل صدیقی کے مطابق تحریک انصاف نے پی ٹی آئی نظریاتی سے ایک نام نہاد سیٹلمنٹ کی، لیکن نظریاتی کے سربراہ نے ٹی وی پر آ کر اس کی تردید کر دی۔
مزید پڑھیں: تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، فیصل واوڈا کا دعویٰ
عدالت کو بتایا گیا کہ سنی اتحاد کونسل، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور جے یو آئی نے مخصوص نشستوں کے لیے درخواستیں دائر کیں، جن میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل کو یہ نشستیں نہ دی جائیں، بلکہ ہمیں دی جائیں، حالانکہ ان جماعتوں کو ان کی متناسب نمائندگی کی بنیاد پر نشستیں مل چکی تھیں۔
فیصل صدیقی کے مطابق قومی و صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں پر 78 سیٹوں کا تنازع ہے، اور اگر یہ نشستیں دیگر جماعتوں کو دے دی گئیں تو حکومت کو دو تہائی اکثریت حاصل ہو جائے گی، جو متنازعہ تصور ہوگی۔
جسٹس مسرت ہلالی نے دوران سماعت سوال کیا ’آپ سنی اتحاد کونسل کے وکیل ہیں یا پی ٹی آئی کے؟ کیا آپ کو پی ٹی آئی نے اتھارٹی دے رکھی ہے کہ ان کی طرف سے بولیں؟‘ فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ وہ پی ٹی آئی کے وکیل نہیں ہیں۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کو آسانی سے مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، شیر افضل مروت
فیصل صدیقی نے آرٹیکل 63 اے سمیت دیگر فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ نظرثانی کی درخواستیں ناقابل سماعت ہیں کیونکہ نظرثانی صرف ایسی صورت میں ممکن ہے جب اصل فیصلے میں واضح غلطی یا قانونی سقم ہو۔
بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 29 مئی تک ملتوی کر دی، جس میں فیصل صدیقی دلائل جاری رکھیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پشاور ہائیکورٹ جسٹس امین الدین خان جسٹس محمد علی مظہر سپریم کورٹ سنی اتحاد کونسل فیصل صدیقی مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی کیس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پشاور ہائیکورٹ جسٹس امین الدین خان جسٹس محمد علی مظہر سپریم کورٹ سنی اتحاد کونسل فیصل صدیقی مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی کیس مخصوص نشستوں سے متعلق سنی اتحاد کونسل فیصل صدیقی نے الیکشن کمیشن مخصوص نشستیں تحریک انصاف مزید پڑھیں سپریم کورٹ کہ نظرثانی نظرثانی کی دیتے ہوئے یہ نشستیں پی ٹی آئی کے مطابق تھا کہ نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔