UrduPoint:
2026-07-24@05:34:28 GMT

مشرق وسطیٰ سے امریکی عملے کے انخلا کی وجوہات کیا ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT

مشرق وسطیٰ سے امریکی عملے کے انخلا کی وجوہات کیا ہیں؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 12 جون 2025ء) امریکی میڈیا نے حکومتی ذرائع سے اطلاع دی ہے کہ امریکہ نے سکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے، بغداد میں اپنے سفارتخانے کے غیر ضروری عملے اور ان کے زیر کفالت افراد کو عراق سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس نیوز نے اس معاملے سے واقف حکام کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ حکام نے قطعی طور پر یہ نہیں بتایا کہ مشرقی وسطیٰ کے مختلف مقامات سے امریکی افراد کے انخلا کا سبب کیا ہے، تاہم بدھ کے روز امریکی حکام کو بتایا گیا کہ اسرائیل ایران میں کارروائی شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔

اطلاعات کے مطابق امریکی حکام نے اسی وجہ سے اپنے کچھ شہریوں کو خطہ چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے اور یہ کہ امریکہ کو اس بات کا اندازہ ہے کہ ایران عراق میں واقع کچھ امریکی مقامات پر جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔

(جاری ہے)

حملہ ہوا تو 'ایران جوہری ہتھیار تیار کر سکتا' ہے، آئی اے ای اے

یہ خبریں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں، جب ایران کے جوہری پروگرام پر تہران اور واشنگٹن کے حالیہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے خطے میں فوجی عملے پر انحصار کرنے والے افراد کی روانگی کی اجازت دے دی ہے اور سینٹ کام "پنپنے والی کشیدگی کی نگرانی کر رہا" ہے۔

امریکی حکام نے اس سلسلے میں مزید کیا کہا؟

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ تمام غیر ضروری اہلکاروں کو بغداد میں امریکی سفارت خانے سے نکلنے کا جو حکم دیا گیا ہے، وہ اس عزم پر مبنی ہے کہ امریکیوں کو اندرون ملک اور بیرون ملک محفوظ رکھا جا سکے۔

امریکی تجویز مسترد، متبادل ایرانی منصوبہ پیش کرنے کا اعلان

بدھ کی شام کو بات کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ عملے کو وہاں سے نکالنے کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ یہ خطہ "خطرناک جگہ ہو سکتی ہے"۔

ٹرمپ نے کہا، "ہم دیکھیں گے کہ ہوتا کیا ہے۔ ہم نے باہر نکلنے کا نوٹس دیا ہے اور ہم دیکھیں گے کہ ہوتا کیا ہے۔

" پھر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے مزید کہا، "وہ جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتے، ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے۔" خطے میں سلامتی کے خطرات

مشرقی وسطی میں حالیہ دنوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی رہی ہے، کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر بات چیت تعطل کا شکار نظر آتی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نے بدھ کو دیر گئے اطلاع دی کہ اسرائیل ایران پر حملہ کرنے کے لیے "مکمل طور پر تیار" ہے اور واشنگٹن کو "توقع" ہے کہ تہران "ہمسایہ ملک عراق میں بعض امریکی مقامات" کو نشانہ بنا کر جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔

امریکی سفری پابندیاں، ایرانی فٹبال شائقین مایوسی کا شکار

ایران کا رد عمل

ادھر ایرانی وزیر دفاع جنرل عزیز ناصر زادہ نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ انہیں اب بھی امید ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوں گے، تاہم انہوں نے کہا کہ تہران کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا، "اگر ہم پر تنازعہ مسلط کیا گیا تو یقیناً مخالف کا جانی نقصان ہم سے زیادہ ہو گا اور ایسی صورت میں امریکہ کو خطے سے نکل جانا چاہیے، کیونکہ اس کے تمام اڈے ہماری پہنچ میں ہیں۔

"

ان کا مزید کہنا تھا، "ہم ان تک رسائی رکھتے ہیں، اور ہم میزبان ممالک میں ان سب کو بلا جھجک نشانہ بنائیں گے۔"

مذاکرات کی کوششیں بھی جاری

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اب بھی اتوار کے روز مذاکرات کے چھٹے دور کے لیے ایرانی حکام سے ملنے کا ارادہ کر رہے ہیں۔ امریکی میڈیا اداروں کے مطابق وٹکوف مسقط میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے۔

جند روز قبل ہی جوہری توانائی سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے متنبہ کیا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے قریب لا سکتا ہے۔

اسرائیلی حملے سے بچاؤ کے لیے ایران جوہری معاہدہ کرے، سعودی انتباہ

ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکہ اور تہران کے درمیان بالواسطہ بات چیت عمان کی ثالثی میں جاری ہے، تاکہ اس کا کوئی حل تلاش کیا جا سکے۔

تاہم اس دوران یہ بات بھی کئی بار کہی جا چکی ہے، کہ بات چیت کی ناکامی اور کسی معاہدے تک نہ پہنچنے کی صورت میں اسرائیل ایران کے جوہری تنصیبات پر حملہ کر کے انہیں ناکارہ بنا سکتا ہے۔

پوٹن کی ایران، امریکہ جوہری مذاکرات میں ثالثی کی پیشکش

رافیل گروسی نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ کرنے کی کوشش کی، تو جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے تہران کا موقف نہ صرف مزید سخت ہونے کا امکان ہے، بلکہ اس معاملے میں سفارت کاری بھی تعطل کا شکار ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملے کے، "ممکنہ طور پر مختلف اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس سے ایران کا عزم مستحکم ہو سکتا ہے۔۔۔۔ میں اگر صاف لفظوں میں کہوں، تو یہ کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش کر سکتا ہے، یا پھر جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے ہی دستبردار ہو جائے گا۔"

روئٹرز، اے ایف پی، اے پی، ڈی پی اے

ادارت: جاوید اختر

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جوہری ہتھیاروں امریکی حکام کہ امریکہ ایران کے کر سکتا سکتا ہے کا شکار بات چیت ہے اور کہا کہ نے کہا کے لیے کیا ہے

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل