غزہ : خوراک کیلئے جمع بھوک سے نڈھال فلسطینیوں پر براہِ راست گولیاں چلائی گئیں، رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ :امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی ایک چشم کشا رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ غزہ میں امدادی مراکز پر تعینات امریکی سکیورٹی کنٹریکٹرز نے خوراک کے حصول کے لیے جمع بھوک سے نڈھال فلسطینیوں پر براہِ راست گولیاں چلائیں جب کہ اسٹن گرینیڈز اور مرچ اسپرے کا استعمال بھی کیا گیا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ میں موجود دو امریکی سکیورٹی کنٹریکٹرز نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کے ساتھی اہلکار بھاری اسلحے سے لیس تھے، انہوں نے ایک دم ہی امدا لینے آنے والے فلسطینیوں پر فائرنگ شروع کردی، سکیورٹی عملہ غیر تربیت یافتہ ہے، جس کی وجہ سے بعض اقدامات ان کی اپنی مرضی سے ہوتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا کہ ان امدادی مراکز میں چہرے کی شناخت کرنے والے جدید کیمرے نصب کیے گئے ہیں جن کے ذریعے مشتبہ افراد کی شناخت کی جاتی ہے اور یہ ڈیٹا براہِ راست اسرائیلی فوج کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے۔
کنٹریکٹرز کے مطابق سکیورٹی عملے کو ہدایت دی گئی تھی کہ کسی بھی مشتبہ شخص کی تصویر لے کر اُسے ایک خفیہ ڈیٹا بیس کا حصہ بنایا جائے، جس کا استعمال بعد میں اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ غزہ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن کو گزشتہ ماہ امریکی حکومت کی جانب سے 30 ملین ڈالر کی امداد فراہم کی گئی تھی، جس کا مقصد جنگ زدہ علاقے میں خوراک اور بنیادی سہولیات کی فراہمی بتایا گیا تھا۔
غزہ میں جاری جنگ، بمباری اور مسلسل محاصرے کے باعث لاکھوں فلسطینی شہری پہلے ہی بدترین انسانی بحران سے دوچار ہیں، خوراک، پانی اور ادویات کی قلت کے باعث لوگ روزانہ امدادی مراکز پر جمع ہوتے ہیں، جہاں انہیں اکثر شدید دھکم پیل اور ہنگامہ آرائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
دریں اثنا انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اس معاملے پر فوری تحقیقات اور شفافیت کا مطالبہ کر رہی ہیں، جب کہ فلسطینی حلقوں میں غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے بھیجی گئی امداد کے ساتھ اس طرح کا سلوک متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
خیال رہےکہ جنگ زدہ اور محصور غزہ میں ایک طرف فلسطینی عوام فاقہ کشی، ادویات کی قلت اور تباہ شدہ انفرا اسٹرکچر سے دوچار ہیں، تو دوسری جانب “غزہ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن (GFH)” جیسے امدادی اداروں کے نام پر سرگرم تنظیمیں مبینہ طور پر انسانی ہمدردی کی آڑ میں دہشت گردی اور اسرائیلی فوج کے لیے انٹیلی جنس اکٹھا کرنے میں ملوث پائی جا رہی ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں جن کے مطابق GFH کے تحت کام کرنے والے امریکی سکیورٹی کنٹریکٹرز نے امدادی مراکز پر جمع بھوک سے نڈھال فلسطینیوں پر براہِ راست گولیاں چلائیں، اسٹن گرینیڈز پھینکے، اور مرچ اسپرے کا استعمال کیا۔ یہ تمام اقدامات ان فلسطینیوں کے خلاف کیے گئے جو صرف ایک وقت کے کھانے کے لیے گھنٹوں قطار میں کھڑے رہتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق GFH میں تعینات سکیورٹی اہلکار نہ صرف بھاری اسلحے سے لیس اور غیر تربیت یافتہ ہیں بلکہ انہیں مشتبہ افراد کی تصاویر لینے، ان کی چہرہ شناسی کیمروں کے ذریعے شناخت کرنے اور یہ ڈیٹا اسرائیلی فوج کے ساتھ شیئر کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ ان مراکز میں لگائے گئے جدید کیمرے امدادی مراکز کو دراصل انٹیلی جنس کے مراکز میں تبدیل کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امدادی مراکز فلسطینیوں پر کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔