انڈیکس 10.18 فیصد اضافے سے 1421 پوائنٹس بڑھ گیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر)پاکستان اسٹاک ایکسچینج میںپیر کے روز کاروباری ہفتے کا آغاز مثبت رجحان کے ساتھ ہوا، جہاں بینچ مارک KSE-100 انڈیکس 1.08 فیصد اضافے سے1421پوائنٹس بڑھ گیا، اور انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران انڈیکس 133,862 پوائنٹس کی سطح پر بھی پہنچ گیاتھا تاہم کاروبار کے اختتام پرتیزی کی شدت میں معمولی کمی آئی۔تجزیہ کاروں نے اس مثبت رجحان کو پالیسی کی ممکنہ وضاحت اور بہتری کی جانب بڑھتے ہوئے معاشی اشاریوں کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد سے منسوب کیا ہے۔مہنگائی میں کمی، بجلی کے نرخوں میں کمی، اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی نے انڈیکس کے مسلسل اضافے کو سہارا دیا۔ سرمایہ کاروں نیبہتر کارکردگی کی توقعات پر اپنارخ اسٹاک مارکیٹ کی طرف موڑا ہے۔ماہر معیشت کیپٹن عبدالرشید ابڑو کے مطابق کم ہوتی مہنگائی، مالیاتی نظم و ضبط، مستحکم بیرونی کھاتوں اور ساختی اصلاحات پر توجہ کے نتیجے میں مانیٹری پالیسی میں نرمی کا تسلسل حصص بازار کی توجہ کا مرکز بنے رہنے میں معاون ہو گا جبکہ ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر امان پراچہ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ مارکیٹ اب تیزی کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس کی خصوصیات میں ریٹیل سرمایہ کاروں کی بڑھتی شرکت، تجارتی حجم میں اضافہ، اور تمام شعبوں میں وسیع پیمانے پر منافع شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے کسی بڑے سرپرائز کے بغیر فنانس ایکٹ 26-2025 کی منظوری خطے میں جغرافیائی سیاسی استحکام، گردشی قرض کے مسئلے کے حل کی امید اور امریکا کے ساتھ ممکنہ تجارتی معاہدے کے امکانات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کیا ہے تاہم ریٹیل سرمایہ کاروں کو طویل مدتی سرمایہ کاری پر توجہ دینی چاہیے، اپنے رسک کی برداشت کے مطابق فیصلے کرنے چاہئیں اور قلیل مدتی اتار چڑھاؤ پر زیادہ ردعمل سے گریز کرنا چاہیے۔پیر کو شیئرز مارکیٹ میں کاروباری حجم گزشتہ کاروباری روز جمعہ کی نسبت 25.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاروں
پڑھیں:
سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔
بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس
کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔
حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔
سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ
سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:
گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے
معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔
اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔
دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔