ایک ہفتے کے دوران انٹربینک میں ڈالر، یورو، ریال، درہم کی قدر میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
کراچی:
بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے دباؤ اور قبل از بجٹ معطل شدہ درآمدی شپمنٹس بڑھنے سے ڈالر سپلائی کی بہ نسبت ڈیمانڈ زائد ہونے سے گزشتہ ہفتے بھی روپے کی نسبت ڈالر تگڑا رہا۔
ہفتہ وار کاروبار میں روپے کی بہ نسبت صرف پاؤنڈ کی قدر میں کمی واقع ہوئی۔ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں بتدریج اضافے کا رحجان بھی روپے کی قدر پر اثرانداز رہا، افراط زر بتدریج بڑھنے کے خدشات بھی زرمبادلہ کی مارکیٹوں پر اثرانداز رہے۔
ہفتہ وار کاروبار کے دوران انٹربینک میں ڈالر، یورو، ریال درہم میں اضافہ ہوا، پاؤنڈ کی قدر میں کمی واقع ہوئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر اور یورو کی قدر میں اضافہ ہوا، پاؤنڈ میں کمی آئی اور ریال و درہم مستحکم رہے۔
ایک ہفتے میں ڈالر کےانٹربینک اور اوپن ریٹ کے درمیان فرق بڑھ کر 2.
برطانوی پاؤنڈ کے انٹربینک ریٹ 1.92روپے کی کمی سے 388.01 روپے ہوگئے جبکہ اوپن مارکیٹ میں برطانوی پاونڈ کی قدر 1.18 روپے کی کمی سے 394.00 روپے ہوگئی۔
انٹربینک میں یورو کرنسی کی قدر 1.79 روپے کے اضافے سے 334.38 روپے ہوگئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں یورو کی قدر 1.84 روپے کے اضافے سے 338.20 روپے پر بند ہوئی۔
انٹربینک میں ریال کی قدر 7 پیسے کے اضافے سے 75.71روپے ہوگئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں ریال کی قدر بغیر کسی تبدیلی کے 76.40 روپے پر مستحکم رہی۔ انٹربینک میں درہم کی قدر 6پیسے کے اضافے سے 77.31 روپے ہوگئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں درہم کی قدر بغیر کسی تبدیلی کے 78.10 روپے پر مستحکم رہی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے اضافے سے روپے ہوگئی کی قدر میں میں ڈالر روپے کی
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔