امریکا میں بارشوں سے تباہی، درجنوں افراد ہلاک، سیکڑوں لاپتا، گھر بہنے کی ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹیکساس: امریکا کی جنوبی ریاستوں نیو میکسیکو اور ٹیکساس میں موسلا دھار بارشوں اور شدید سیلابی صورتحال نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی ہے، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک، متعدد لاپتا اور درجنوں مکانات صفحۂ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔
عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر میں نیو میکسیکو کے علاقے روئیڈوسو (Ruidoso) میں سیلابی ریلے کو پورے کے پورے گھر بہاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
مقامی حکام کے مطابق اس علاقے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 3.
حکام نے تصدیق کی ہے کہ بارشوں اور سیلاب سے روئیڈوسو اور اس کے گرد و نواح کے دیہات بری طرح متاثر ہوئے ہیں، کئی سڑکیں اور پل بہہ گئے ہیں جب کہ متعدد رہائشی علاقے مکمل طور پر زیر آب آ چکے ہیں، متاثرہ علاقے سے 2 بچوں سمیت 3 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جب کہ 3 افراد تاحال لاپتا ہیں جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ریاستی ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق شدید بارشوں کی پیش گوئی کے بعد پہلے ہی متعدد خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا، اچانک آنے والے سیلابی ریلے کے باعث کچھ علاقے بروقت خالی نہیں کروائے جا سکے۔
وڈیو دیکھنے کیلیے کلک کریں.
حکام نے بتایا کہ نیو میکسیکو میں نیشنل گارڈ، فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ ہیلی کاپٹرز کی مدد سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ٹیکساس میں بھی شدید بارشوں نے بدترین تباہی مچائی ہے، مختلف شہروں میں نشیبی علاقے زیر آب آ چکے ہیں اور بجلی، پانی، اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہو چکا ہے، ریاستی حکام کے مطابق اب تک 100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 161 سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں، جس میں ایک بڑی تعداد لڑکیوں کی ہے۔
ٹیکساس میں سیلاب کی شدت اس قدر ہے کہ کئی علاقوں میں ریسکیو ٹیموں کو کشتیوں اور ڈرونز کے ذریعے امدادی سرگرمیاں انجام دینا پڑ رہی ہیں۔ درجنوں مکانات تباہ اور ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
نیو میکسیکو اور ٹیکساس کے گورنرز نے شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کے پیش نظرشہر بھر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے، متاثرہ علاقوں میں اسکول، دفاتر اور بازار بند کر دیے گئے ہیں جبکہ لوگوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت دی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیو میکسیکو چکے ہیں
پڑھیں:
غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔
اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔
آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
غذائی قلت غزہ فلسطین