عراقی وزیرِاعظم نے پولیس سے ہلاکت خیز جھڑپ کے بعد نیم فوجی کمانڈرز کو برطرف کردیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
عراق کے وزیرِاعظم محمد شیاع السودانی نے ایک حکومتی عمارت پر ہونے والے مسلح حملے اور پولیس کے ساتھ جھڑپ میں 3 افراد کی ہلاکت کے بعد نیم فوجی ملیشیا کے سینئر کمانڈرز کے خلاف وسیع پیمانے پر تادیبی کارروائی اور قانونی اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔ وزیرِاعظم کے دفتر کے مطابق یہ کارروائی ایک سرکاری تحقیقاتی رپورٹ کے بعد کی گئی ہے۔
مذکورہ واقعہ 27 جولائی کو بغداد کے کرخ ضلع میں زرعی ڈائریکٹوریٹ پر اس وقت پیش آیا جب سابق ڈائریکٹر کو عہدے سے ہٹاکر نئے ڈائریکٹر کی تعیناتی کی گئی، رپورٹ کے مطابق کرپشن کے مقدمات میں ملوث برطرف ڈائریکٹر نے کتائب حزب اللہ کے مسلح افراد کو حملے کے لیے طلب کیا۔
یہ بھی پڑھیں:
کتائب حزب اللہ، الحشد الشعبی یعنی پاپولر موبلائزیشن فورسز کا حصہ ہے، جو زیادہ تر شیعہ، ایران نواز ملیشیا کا اتحاد ہے جو داعش کے خلاف لڑنے کے لیے بنایا گیا تھا، اگرچہ 2016 میں الحشد الشعبی کو باضابطہ طور پر عراقی فوج کے ماتحت کر دیا گیا، مگر عملی طور پر اس کے بعض گروہ آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں اور وقتاً فوقتاً شام میں امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون حملے بھی کرتے ہیں۔
حکومتی بیان کے مطابق کرخ پر حملہ کرنے والے جنگجو الحشد الشعبی کی 45ویں اور 46ویں بریگیڈ سے تعلق رکھتے تھے، وزیرِاعظم السودانی نے ان دونوں بریگیڈز کے کمانڈرز کو برطرف کرنے، تمام ملوث افراد کو عدلیہ کے حوالے کرنے اور الحشد الشعبی کی کمان میں قیادت و کنٹرول کی ناکامی کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
مزید پڑھیں:
تحقیقات میں الحشد الشعبی کے اندر ایسے ڈھانچہ جاتی مسائل کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جن کے باعث بعض یونٹس کمانڈ چین سے باہر کام کر رہے ہیں، الحشد الشعبی اور عراقی ریاست کے تعلقات امریکا اور عراق کے درمیان کشیدگی کا سبب بھی رہے ہیں، کیونکہ واشنگٹن کتائب حزب اللہ سمیت اس اتحاد کے بعض گروپوں کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دیتا ہے۔
عراقی پارلیمنٹ اس وقت ایک قانون سازی پرغور کررہی ہے جس کا مقصد فوج اور الحشد الشعبی کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے، تاہم امریکا نے اس پر اعتراض کیا ہے، وزیرِاعظم السودانی نے اس قانون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مقصد یہ ہے کہ تمام ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں ہوں۔ ’سیکیورٹی اداروں کو قوانین کے تحت کام کرنا چاہیے، ان کا محاسبہ ہونا چاہیے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الحشد الشعبی امریکا پارلیمنٹ دہشت گرد عراقی وزیر اعظم کتائب حزب اللہ کمانڈرز محمد شیاع السودانی نیم فوجی ملیشیا واشنگٹن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الحشد الشعبی امریکا پارلیمنٹ کتائب حزب اللہ محمد شیاع السودانی نیم فوجی ملیشیا واشنگٹن کتائب حزب اللہ الحشد الشعبی
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔