افغان طالبان اور پاکستان کے درمیان سرحدی جھڑپ
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
تسنیم نیوز کے مطابق طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ پاکستانی افواج نے جمعرات کی شام صوبہ قندھار کے ضلع اسپین بولدک میں طالبان کی چوکیوں پر فائرنگ کی۔ ان کے بقول طالبان فورسز نے شہریوں کے تحفظ اور استنبول میں جاری مذاکراتی وفد کے احترام میں جوابی کارروائی سے گریز کیا۔ اسلام ٹائمز۔ ترکیہ میں بات چیت کے ساتھ ہی افغانستان کی سرحدی گزرگاہ اسپین بولدک ایک نئی مسلح جھڑپ ہوئی ہے۔ اگرچہ اس واقعے کے بارے میں دونوں فریقوں کے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں، تاہم مبصرین کے مطابق یہ جھڑپ امن مذاکرات کے لیے ایک نیا امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔ تسنیم نیوز کے مطابق طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ پاکستانی افواج نے جمعرات کی شام صوبہ قندھار کے ضلع اسپین بولدک میں طالبان کی چوکیوں پر فائرنگ کی۔ ان کے بقول طالبان فورسز نے شہریوں کے تحفظ اور استنبول میں جاری مذاکراتی وفد کے احترام میں جوابی کارروائی سے گریز کیا۔
مجاہد کے مطابق یہ فائرنگ ایسے وقت میں ہوئی جب دونوں فریقوں نے گزشتہ مذاکراتی دور میں جنگ بندی میں توسیع اور اشتعال انگیزی سے اجتناب پر اتفاق کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ مقامی باشندوں میں خوف و تشویش کا باعث بنا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے طالبان کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فائرنگ طالبان فورسز کی جانب سے شروع ہوئی تھی اور پاکستانی اہلکاروں نے صرف مناسب دفاعی جواب دیا۔ بیان کے مطابق، صورتِ حال جلد ہی قابو میں آ گئی۔ قندھار کے مقامی ذرائع کے مطابق، سرحد کے قریب شدید فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں، اور متعدد شہریوں نے اپنے گھر چھوڑ دیے۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں غیر مسلح شہریوں کو سرحدی علاقوں سے فرار ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ جھڑپ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں استنبول میں طالبان اور پاکستان کے درمیان امن مذاکرات جاری ہیں۔ ماہرین کے خیال میں اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سلامتی کے معاملات پر گہری بداعتمادی اور اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، طالبان شاید میدانِ جنگ میں ضبط و تحمل کا مظاہرہ کر کے اپنی ایک زیادہ “سفارتی” شبیہ پیش کرنا چاہتے ہیں، جبکہ پاکستان اندرونی دباؤ میں ہے کہ وہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کے خلاف سخت کارروائی کرے اور کابل سے اس ضمن میں عملی اقدامات کی توقع رکھتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی جھڑپیں آتشبس کے تسلسل اور فریقین کے باہمی اعتماد کے لیے ایک امتحان ہیں، ایک ایسا عمل جو ابتدا ہی سے کمزور اور تناؤ سے بھرپور رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، طالبان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا باضابطہ دور ۶ نومبر سے استنبول میں شروع ہوا۔ طالبان وفد کی قیادت عبدالحق وثیق، سربراہِ عمومی استخباراتِ افغانستان، جبکہ پاکستانی وفد کی سربراہی عاصم ملک، سربراہِ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کر رہے ہیں۔ یہ مذاکرات، جو اس سے قبل دوحہ اور استنبول میں دو مراحل میں منعقد ہو چکے ہیں، کا مقصد جنگ بندی کو مضبوط بنانا اور سرحدی کشیدگی میں کمی لانا ہے۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: استنبول میں اور پاکستان کے درمیان کے مطابق
پڑھیں:
برطانیہ میں لڑکی سے جنسی زیادتی پر افغان شہریوں کو قید کی سزا
واقعہ رواں برس مئی میں پیش آیا، عدالت میں استغاثہ نے بتایا کہ 17 سالہ جان جہانزیب اور اسرار نیازال لیمنگٹن کے ایک پارک سے 15 سالہ لڑکی کو اُس وقت زبردستی اپنے ساتھ لے گئے، جب وہ نشے کی حالت میں تھی۔ اسلام ٹائمز۔ برطانیہ میں لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے پر 2 افغان شہریوں کو قید کی سزا سنا دی گئی۔ برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جان جہانزیب نامی افغان ملزم کو 10 سال 8 ماہ جبکہ اسرار نیازال کو 9 سال 10 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ واقعہ رواں برس مئی میں پیش آیا، عدالت میں استغاثہ نے بتایا کہ 17 سالہ جان جہانزیب اور اسرار نیازال لیمنگٹن کے ایک پارک سے 15 سالہ لڑکی کو اُس وقت زبردستی اپنے ساتھ لے گئے، جب وہ نشے کی حالت میں تھی۔
سماعت کے دوران عدالت میں ملزمان کی جانب سے متاثرہ لڑکی کو زبردستی پارک سے لے جانے کی ویڈیو بھی چلائی گئی۔ رپورٹس کے مطابق عدالت میں شواہد پیش کرنے کے بعد جج نے دونوں ملزمان کو 9 اور 10 سال قید کی سزا سنائی۔ سزا مکمل ہونے کے بعد دونوں کو ملک بدر کیا جائے گا۔ رپورٹس میں بتایا گیا کہ 17 سالہ ملزمان افغان شہری گذشتہ سال برطانیہ پہنچے تھے اور دونوں نے پناہ کی درخواست دے رکھی تھی۔