جشن آزادی، معرکہ حق کی فتح اور پاک امریکہ تعلقات کی بہتری کے عزم کا دن ہے، رضوان سعید شیخ
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
اسلام آباد(صغیر چوہدری )پاکستان کے 78 ویں یوم آزادی کے موقع پرامریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ جشن آزادی تجدید عہد کا دن ہے لیکن اس مرتبہ 14 اگست اس معرکہ حق کے تین مہینے بعد آیا ہے جس میں ہم نے نہ صرف اپنی آزادی کی تجدید کی بلکہ شاید علاقے میں اور پوری دنیا میں تاکید بھی کی۔ یہ بتایا اور ثابت کیا کہ پاکستان اور دنیا کے کسی بھی خطے میں رہنے والے پاکستانی اپنی آزادی کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ ہماری بری، بحری اور فضائی افواج نے جس شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور جو فتح حاصل کی اس میں پوری قوم ان کے شانہ بشانہ ہے اور اپنے کسی بھی اختلاف سے بالاتر ہو کر اپنی آزادی کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت آج بھی اور آنے والے کل میں بھی تیار ہے اور تیار رہے گی۔ پاکستان میں اور دنیا میں بسنے والے پاکستانیوں کے لیے جشن آزادی ایک انتہائی خوشی کا موقع ہے اور آج جب ہم 79 واں یوم آزادی منا رہے ہیں ہمیں یہ ذہن میں رکھنا ہے کہ معرکہ حق میں جو فتح ہم نے حاصل کی ہے، بنیان المرسوس آپریشن کے نتیجے میں، وہ ایک ابتدا تھی جو فلسفہ اور جو تصور بنیان ا لمرسوس سے وابستہ ہے اس کی تکمیل اس وقت تک نہیں ہوگی جب ہم اپنے قائد کے اس فرمان کی تکمیل نہ کر سکیں اور اس مقام پر پاکستان کو نہ پہنچا دیں جس کی پیش بندی کے طور پر انہوں نے کہا تھا کہ
There is no power on earth that can undo Pakistan
اور یہ صرف تبھی ممکن ہوگا جب ہم اپنی یکجہتی کو قائم رکھیں، اپنے اتحاد کو برقرار رکھیں، ایک نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں اور اس بات پر ایمان رکھیں کہ واقعی جب ہم معاشی طور پر ناقابل تسخیر ہو جائیں گے تو بنیان ا لمرسوس کا اصل مقصد پورا ہو جائے گا اور ہمارا دفاع اور پاکستان کی سالمیت اور پاکستان کا وقار ناقابل تسخیر ہو جائے گا
پاکستانیوں سے جو امریکہ کے طول و عرض میں آباد ہیں میری گزارش ہے، استدعا ہے کہ آپ دونوں ملکوں کے تعلقات کی بہتری کے لیے امریکہ اور پاکستان کے دیرینہ تعلقات کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کیجیے۔ بنیان ا لمرسوس کی فتح کے بعد ہم نے دیکھا ہے کہ جس طرح باقی دنیا میں ہمارے وقار میں اضافہ ہوا ہے ، ہماری پوزیشن بہتر ہوئی ہے اسی طرح پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بھی ایک نیا اور خوشگوار ترین موڑ لیا ہے اور لگتا ہے کہ ہمارا مستقبل خوش آئند ہے لیکن ہمیں دونوں ملکوں کے تعلقات کی بقا اور بہتری کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔ اس سلسلے میں میں آپ سب کے تعاون کے لیے استدعابھی کرتا ہوں اور مشکور بھی ہوں۔
پاک امریکہ دو طرفہ تعلقات اور خاص کر معاشی تعلقات علاقائی اور عالمی امن کی ضمانت ہوں گے۔ آئیے ہم سب مل کر اس کے لیے کام کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: تعلقات کی بہتری کے ہے اور کے لیے
پڑھیں:
گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب پولیس کی جانب سے پیش کردہ ایک رپورٹ نے معاشرے میں کھلبلی مچا دی ہے۔ عدالتِ عالیہ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، 2021 سے اب تک درج ہونے والے گمشدہ خواتین و لڑکیوں کے کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے، جن میں سے اکثریت کے بارے میں پولیس کا مؤقف ہے کہ ان لڑکیوں نے اپنی مرضی سے شادی کر لی تھی۔ یہ خبر صرف عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں، بلکہ ہمارے سماجی ڈھانچے میں موجود گہرے شگافوں کی عکاس ہے۔
رپورٹ کے مطابق 105,244 کیسز رجسٹر ہوئے، جن میں سے 103,351 حل کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار بیک وقت اطمینان اور تشویش کا باعث ہیں۔ اطمینان اس لیے کہ بڑی تعداد میں کیسز حل ہوئے، مگر تشویش اس بات پر کہ آخر اتنی بڑی تعداد میں لڑکیاں اپنے گھر چھوڑنے پر کیوں مجبور ہوئیں؟
جب معاشرے میں 80 فیصد گمشدگیوں کی وجہ اپنی مرضی سے شادی قرار دی جاتی ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ گھر کے اندر موجود حالات اور سماجی دباؤ اس قدر شدید ہو چکے ہیں کہ نوجوان لڑکیاں گھر سے فرار کو ہی اپنی نجات سمجھتی ہیں۔
ہمارے معاشرے میں شادی کے معاملے پر لڑکی کی مرضی کو اکثر ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ والدین کی خواہشات اور خاندانی وقار کے نام پر لڑکیوں کے جذبات کو کچلا جاتا ہے۔ جب ایک لڑکی کو لگتا ہے کہ اس کی بات سنی نہیں جائے گی، تو وہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ کیا شادی کرنا غلط ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ لڑکیوں کو ان کے حقوق، تعلیم اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی آزادی فراہم کر رہا ہے؟ جب یہ آزادی سلب کر لی جاتی ہے تو وہ گمشدگی کی رپورٹوں کے ذریعے منظر عام پر آتی ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اس معاملے پر جس برہمی کا اظہار کیا، وہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پولیس کا کردار محض کیس بند کرنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت نے درست کہا کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جاتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔
اکثر کیسز میں پولیس کا کردار صرف تب فعال ہوتا ہے جب عدالت سے حکم جاری ہو۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جب تک کوئی اغوا کا ایف آئی آر درج نہ ہو، تب تک پولیس اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔
اس سارے معاملے میں ایک پہلو والدین کا بھی ہے۔ اکثر والدین اپنی بیٹیوں پر اس قدر پابندیاں عائد کر دیتے ہیں کہ وہ نفسیاتی طور پر ٹوٹ جاتی ہیں۔ خاندانوں کے اندر مکالمے کی کمی اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد اس بحران کو جنم دیتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی لڑکی کا گھر چھوڑنا محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک طویل عمل کا نتیجہ ہوتا ہے جو گھر کے چار دیواری کے اندر شروع ہوتا ہے۔
زیادہ تر اغوا کی ایف آئی آر درج کرانا اکثر اوقات خاندانی عزت بچانے کا ایک طریقہ بھی ہوتا ہے۔ جب والدین اپنی بیٹی کے پسند کی شادی کو تسلیم نہیں کر پاتے، تو وہ اسے اغوا کا نام دے دیتے ہیں۔ اس سے پولیس کا وقت ضائع ہوتا ہے اور حقیقی اغوا کے کیسز پر سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ عدالتی عمل کے دوران جب یہ سچ سامنے آتا ہے کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، تو وہ کیس ختم کر دیا جاتا ہے، لیکن اس دوران جو سماجی و قانونی کشمکش پیدا ہوتی ہے، وہ خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے تقسیم کر دیتی ہے۔
اس مسئلے کا حل صرف پولیس کی سختی یا عدالت کے احکامات میں نہیں، بلکہ ہمیں ایک وسیع تر سماجی بحث کی ضرورت ہے۔
خاندانوں میں مکالمہ: والدین کو اپنی بیٹیوں کے ساتھ دوستی کا رشتہ قائم کرنا چاہیے۔ان کی پسند و ناپسند کو اہمیت دینی چاہیے۔
نفسیاتی مشاورت: تعلیمی اداروں اور کمیونٹی مراکز میں کونسلنگ کا اہتمام ہونا چاہیے تاکہ نوجوان اپنے جذبات کا صحیح اظہار کر سکیں۔
پولیس کا پیشہ ورانہ رویہ: پولیس کو گمشدگی کے کیسز میں زیادہ حساسیت اور پیشہ ورانہ مہارت دکھانے کی ضرورت ہے۔
قانونی شعور: لڑکیوں کو ان کے قانونی حقوق سے آگاہ ہونا چاہیے تاکہ وہ کسی بھی غیر قانونی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔
لاہور ہائی کورٹ کے اس کیس نے ہمیں ایک آئینہ دکھایا ہے۔ اگر ہم اس آئینے میں دیکھ کر اپنی کوتاہیوں کا اعتراف نہیں کریں گے، تو یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
80 فیصد لڑکیوں کا اپنی مرضی سے شادی کرنا ہمارے نظام کی ناکامی نہیں، بلکہ ہمارے سماجی رویوں کی ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی اقدار کا ازسرِ نو جائزہ لیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں خواتین کی آواز، ان کی پسند اور ان کا وقار محفوظ ہو۔ عدالتی کارروائی اپنی جگہ، لیکن اصل تبدیلی ہمارے گھروں سے شروع ہوگی۔
یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے جو قانون کے دائرے سے نکل کر ہمارے دلوں اور ذہنوں تک جاتا ہے۔ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم لڑکیوں کو بوجھ نہیں، بلکہ ایک فرد سمجھیں جس کی اپنی زندگیاں اور خواب ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں