جشن آزادی پر جاری سرکاری اشتہار سے قائد اعظم اور علامہ اقبال کی تصاویر غائب، سیاسی حلقوں کی تنقید
اشاعت کی تاریخ: 14th, August 2025 GMT
جشن آزادی پر جاری سرکاری اشتہار سے قائد اعظم اور علامہ اقبال کی تصاویر غائب، سیاسی حلقوں کی تنقید WhatsAppFacebookTwitter 0 14 August, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)وزارتِ اطلاعات و نشریات نے جشن آزادی کے موقع پر قومی اخبارات میں سرکاری اشتہار جاری کیا جس میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کی تصاویر شامل نہیں کی گئیں۔
جاری کردہ اشتہار میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا سمیت پاک بحریہ اور پاکستان ائیرفورس کے سربراہان کو دکھایا گیا۔اشتہار میں وزیر اعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری کی تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں۔اس کے علاوہ قومی پرچم، منارِ پاکستان، مختلف ثقافتوں کے لوگ اور خاص شعبوں سے وابستہ افراد کو بھی نمایاں انداز میں دکھایا گیا ہے۔
تاہم سوشل میڈیا پر مختلف سیاسی حلقوں نے جاری کردہ اشتہار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔پاکستان کے سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے ایکس پر اشتہار کی تصویر پوسٹ کی جس پر انہوں نے لکھا کہ کتنی شرم کی بات ہے! یوم آزادی پر حکومت پاکستان کے سرکاری اشتہار میں بانی پاکستان اور بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی کوئی تصویر ہی شامل نہیں، بلکہ صرف عارضی عہدہ سنبھالنے والے افراد کی تصاویر ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے بلند مرتبے کا سہرا قائد کی جدوجہد اور قربانی کے سر ہے۔
سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے جاری کردہ اشتہار پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ وزارت اطلاعات کا اشتہار میں قائداعظم محمد علی جناح کی عدم موجودگی ایک واضح کوتاہی ہے۔نجی ٹی چینل کے صحافی حسین احمد بھی خاموش نہ رہ سکے اور انہوں نے لکھا کہ عجیب صورتحال ہے وزارت اطلاعات کی طرف سے شائع اشتہار میں پاکستان بنانے والے قائد اعظم محمد علی جناح ، علامہ اقبال کی تصاویر ہی غائب ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے آفیشل ایکس اکاونٹ پر بھی اشتہار کی تصویر پوسٹ کی گئی جس پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ مائنس عمران خان کی سوچ سے مائنس محمد علی جناح اور مائنس قومی شاعر علامہ محمد اقبال تک کا شرمناک سفر۔
پوسٹ میں پی ٹی آئی نے لکھا کہ یہ کوئی غلطی نہیں ایک سوچی سمجھی سازش ہے یکم اگست سے لے کر 14 اگست تک مختلف حکومتی جماعت کی شخصیات نے ملک بھر میں آویزاں کیے گئے اشتہاری بورڈ پر بھی قائداعظم اور علامہ اقبال کی تصاویر نہیں تھی آج وزارت اطلاعات کے شائع کیے گئے سرکاری اشتہار میں بھی دونوں قومی ہیروز کی تصاویر نہیں ہیں۔
یاد رہے اس سے قبل 28 مئی یوم تکبیر کے موقع پر شائع ہونے والے سرکاری اشتہارات میں ایٹم بم بنا کر پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر کرنے والے محسن پاکستان ڈاکٹر قدیر خان کی تصاویر بھی شامل نہیں کی گئی تھیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمعرکہ حق میں جرأت اور جنگی مہارت کا اعتراف، فیلڈ مارشل کیلئے ہلال جرأت کا اعزاز معرکہ حق میں جرأت اور جنگی مہارت کا اعتراف، فیلڈ مارشل کیلئے ہلال جرأت کا اعزاز ایوان صدر میں سول و عسکری شخصیات کو اعلیٰ اعزازت دینے کی تقریب چیئرمین سی ڈی اے کی چہلم جلوس کیلئے فول پروف سکیورٹی ہدایت چیف جسٹس کا 26ویں آئینی ترمیم پر جسٹس منصور کو لکھا گیا جواب پہلی بار منظرِ عام پرآگیا مسلم لیگ (ن) ویمن ونگ کے زیر اہتمام جشنِ آزادی و معرکۂ حق کی شاندار تقریب یوم آزادی پر برج خلیفہ بھی سبز ہلالی پرچم کے رنگ میں رنگ گیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اور علامہ اقبال کی تصاویر سرکاری اشتہار
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :