باجوڑ میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب ںے تباہی مچا دی، 16 افراد جاں بحق، 7 لاپتا
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
باجوڑ میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب ںے تباہی مچا دی، 16 افراد جاں بحق، 7 لاپتا WhatsAppFacebookTwitter 0 15 August, 2025 سب نیوز
پشاور:(آئی پی ایس)
خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کے علاقے جبراڑئی اور سلارزئی میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلے کے باعث 16 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے جبکہ 7 افراد لاپتا ہیں۔
ریسکیو 1122 باجوڑ کے کنٹرول روم کو تحصیل سلارزئی کے گاؤں جبراڑئی میں شدید بارش (کلاؤڈ برسٹ) کے نتیجے میں سیلابی ریلے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول ہوئی۔
اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 باجوڑ نے ڈیزاسٹر، میڈیکل اور غوطہ خور ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ روانہ کیں۔
ریسکیو 1122 اہلکاروں نے مقامی افراد کے تعاون سے اب تک 16 جاں بحق اور 3 زخمیوں کو ملبے اور پانی سے نکال لیا ہے۔ زخمیوں کو ایمبولینس میں فوری طبی امداد فراہم کرنے کے بعد اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر باجوڑ امجد خان کی نگرانی میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ مقامی افراد کے مطابق اب بھی تقریباً 7 افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں۔
ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر امجد خان آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔
باجوڑ، دیر لویر اور بالاکوٹ سے ہولناک واقعات کی اطلاعات موصول ہوئیں، جہاں آسمانی بجلی گرنے، چھتیں گرنے اور ندی نالوں میں طغیانی کے باعث متعدد انسانی جانیں ضائع ہو گئیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرموڈیز کی ریٹنگ اپ گریڈ سے پاکستان کی معیشت پر عالمی اعتماد میں اضافہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کی وارننگ، سیلاب کا سنگین خطرہ پاکستان منی لانڈرنگ اسکیموں کی مؤثر روک تھام میں ناکام رہا، آئی ایم ایف بھارت کا سندھ طاس معاہدے پر عالمی ثالثی عدالت کا پاکستان کے حق میں فیصلہ ماننے سے انکار پاکستان ،افغانستان اور چین کے وزرائے خارجہ کی کابل میں ملاقات کا شیڈول طے بانی تحریک انقلاب پاکستان محمد عارف کی 78ویں یوم آزادی پر قوم کو مبارکباد زرعی ترقیاتی بینک میں یومِ آزادی کی پروقار تقریب ،پرچم کشائی، شجر کاری، کیک کاٹنے اور قومی خدمت کے عزم کی تجدیدCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔