اسلامی نظریاتی کونسل نے انجنیئر محمد علی مرزا کو گستاخ قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
سٹی42: اسلامی نظریاتی کونسل نے انجنیئر محمد علی مرزا کو گستاخ قرار دے دیا.
اسلامی نظریاتی کونسل نے آج اپنے اجلاس میں انجینئیر محمد علی مرزا کے معاملہ پر مفصل غور و خوغ کے بعد قرار دیا کہ مرزا محمد علی کے کئی بیانات نقلِ کفر پر مشتمل ہیں،
3 تھانوں کی حدود میں اے ٹی ایم میں ایلفی ڈالنے کی واردات ؛ مقدمہ درج
کونسل نے قرار دیا کہ مرزا محمد علی کے بیانات کسی شرعی مقصد کے بغیر کہے گئے، نقلِ کفر پر مبنی بیانات کی بنا پر انجنیئر مرزا سخت تعزیری سزا کے مستحق ہیں۔
انجنیئر محمد علی مرزا نے بار بار نقلِ کفر پر مشتمل بیانات دہرائے۔ گستاخانہ جملے بار بار دہرانے سے مرزا محمد علی کا جرم مزید سنگین ہوگیا۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے قرار دیا کہ شرعی اصول یہ ہے کہ کفر کے الفاظ صرف جائز دینی ضرورت پر نقل کیے جاسکتے ہیں۔
گھریلو ملازمہ سے زیادتی ؛ حناپرویز بٹ کا نوٹس، مقدمہ درج
کفر کے الفاظ صرف باطل کی تردید کرنے ، تعلیم یا تنبیہ کے مقصد سے نقل کیے جاسکتے ہیں۔ بلا ضرورت کفر آمیز کلمات دہرانا ناجائز اور سخت گناہ ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے واضح کیا کہ حرمتِ رسول ﷺ کے معاملے میں بلا ضرورت توہین آمیز جملے دہرانے کی قطعاً اجازت نہیں۔
انجینئیر محمد علی مرزا کو گزشتہ ماہ جہلم پولیس نے پہلے اندیشہِ نقصِ امن کے سبب 3 ایم پی او میں گرفتار کیا تھا، بعد میں شکایت کنندگان کی درخواست پر ان کے خلاف توہینِ رسالت کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ اس وقت وہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔
وفاقی حکومت نے لاہور میں تین وکلاء کو بطور لاء افسران تعینات کردیا
محمد علی مرزا کون ہے؟
محمد علی مرزا ایک پاکستانی مکینیکل انجینئر اور اسلامی مذہبی مقرر اور YouTuber ہیں۔ وہ کئی سال سے یو ٹیبنگ کر رہے ہیں اور کئی سوشل پلیٹ فارمز پر ان کے حامی ان کے لیکچرز کو تسلسل کے ساتھ پروموٹ کرتے رہتے ہیں جس کے سبب وہ اپنے مذہبی لیکچرز کے لیے بہت زیادہ مشہور ہیں۔ انجینئیر محمد علی مرزا کے بیانات نے گزشتہ کئی سالوں میں پاکستان میں اہم تنازعات کو جنم دیا اور انہیں متعدد قانونی چیلنجوں اور قتل کی کوششوں کا سامنا کیا۔
کمسن بچی سے زیادتی کی کوشش؛ ملزم گرفتار
پس منظر اور کیریئر
انجینئرنگ کا پس منظر: محمد علی مرزا جہلم، پنجاب میں پیدا ہوئے، مرزا پیشے کے لحاظ سے مکینیکل انجینئر ہیں اور اس سے قبل حکومت پنجاب کے لیے کام کر چکے ہیں۔
مذہبی کام: وہ جہلم میں قرآن و سنت ریسرچ اکیڈمی چلاتے ہیں اور بنیادی طور پر اردو میں مذہبی لیکچر دیتے ہیں، جو ان کے مقبول یوٹیوب چینل پر نمودار ہوتے ہیں اور بڑے پیمانے پر پھیلائے جاتے ہیں۔
محمد علی مرزا کا فرقہ: محمد علی مرزا ایک غیر فرقہ پرست مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور مسلم کمیونٹی کے اندر اتحاد کی تبلیغ کرتا ہے، اپنے دلائل قرآن و سنت کی تشریح پر مبنی بتاتا ہے ۔ لیکن یہ تصویر کا ایک رخ ہے؛ دوسرا رخ یہ ہے کہ انجینئیر محمد علی مرزا تقریباً ہر فرقہ پر تنقید کرتا ہے اور فرقوں کے عقائد کو باطل قرار دیتا ہے اور دھیرے دھیرے خود مرزا کا اپنا ایک فرقہ بن چکا ہے اور ان کے معتقد ایک غیر منظم، غیر مربوط فرقہ کی طرح ہیں جو مرزا کے افکار پر ایسے ہی یقین رکھتے ہیں جیسے دوسرے لوگ دوسرے مذہبی رہنماؤں کے افکار پر یقین رکھتے ہیں۔
مذہبی علماء کو تسلسل کے ساتھ چیلنج کرنے کے لئے مشہور، محمد علی مرزا نے روایتی مذہبی اور اسلامی تعلیمات کی ان کی غیر روایتی تشریحات کو واضح طور پر رد کر کے متبادل خیالات پیش کئے اس عمل سے ان کے ہزاروں اہم پیروکار اور کٹر ناقدین دونوں پیدا ہو گئےہیں۔
تنازعات اور گرفتاریاں
توہین مذہب اور نفرت انگیز تقاریر کے الزامات: اسے متعدد مواقع پر مبینہ طور پر نفرت انگیز تقریر اور توہین کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
2020: انہیں دیگر مذہبی سکالرز کے خلاف توہین آمیز ریمارکس کرنے پر گرفتار کیا گیا لیکن بعد میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
2023: ان کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا، بعد میں ان الزامات کو خارج کر دیا گیا۔
2025: انہیں مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت ایک بار پھر گرفتار کیا گیا جب ان کے مبینہ متنازعہ ریمارکس کی ویڈیو وائرل ہو گئی۔ اس مرتبہ مرزا کی گرفتاری کی درخواست کئی فرقوں کے علما نے مل کر دی تھی۔
بعد میں اسی روز ان پر توہین رسالت قانون کی دفعہ 295 سی کے تحت باقاعدہ مقدمہ درج ہو گیا۔
اپنے متنازعہ خیالات کی وجہ سے، مرزا کئی برسوں میں قاتلانہ حملوں میں بچتے رہے ہیں۔
فرقہ وارانہ تنازعات: ان کے لیکچرز، خاص طور پر ابتدائی اسلامی شخصیات کے بارے میں ان کے خیالات، پاکستان کے دیگر ممتاز علما کے ساتھ عوامی دشمنی اور تنازعات کا باعث بنے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اسلامی نظریاتی کونسل اسلامی نظریاتی کونسل انجینئیر محمد علی مرزا اسلامی نظریاتی کونسل اسلامی نظریاتی کونسل انجینئیر محمد علی مرزا انجینئیر محمد علی مرزا انجینئیر محمد علی مرزا اسلامی نظریاتی کونسل نے انجینئیر محمد علی مرزا گرفتار کیا کیا گیا ہیں اور ہے اور
پڑھیں:
علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
اسلام ٹائمز: موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔ تحریر: عبداللہ البحرانی
مملکتِ بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کے اقدامات میں نمایاں شدت آ گئی ہے، جو وسیع پیمانے پر گرفتاریوں، شہریت کی منسوخی اور مذہبی شعائر پر پابندیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ مرآۃ البحرین کے حوالے سے عبداللہ البحرانی نے لکھا کہ یہ پیش رفت ایک ایسے حساس علاقائی ماحول میں رونما ہو رہی ہے جہاں داخلی سلامتی کے خدشات بدلتے ہوئے علاقائی اتحادوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، خصوصاً اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد۔ اس رپورٹ کا مقصد سرکاری بیانات، انسانی حقوق کے اداروں کے ردِعمل اور سرکاری مؤقف کے تقابلی جائزے کے ذریعے اس مہم کے سیاسی اور قانونی پہلوؤں کا تجزیہ کرنا ہے۔
تاریخی اور سیاسی پس منظر:
انہوں نے لکھا کہ بحرین میں حکومت اور شیعہ اکثریتی آبادی، جو ملک کی اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے، ان کے درمیان کشیدگی ایک طویل عرصے سے موجود ہے۔ اس کشیدگی کی جڑیں سیاسی نمائندگی، اصلاحات کے مطالبات اور امتیازی سلوک کے الزامات میں پیوست ہیں۔ یہ تناؤ خاص طور پر 2011ء کے عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد بڑھ گیا، جب احتجاجی تحریک کو سخت سکیورٹی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا اور شیعہ کارکنان اور علمائے دین کو نمایاں طور پر نشانہ بنایا گیا۔
حالیہ پیش رفت، مئی 2026 کی مہم:
البحرانی کے مطابق مئی 2026 کے آغاز میں بحرین کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرنے والے بحرینی شہریوں کے ایک گروہ سے متعلق کارروائی کی گئی ہے اور 41 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان افراد پر جارحیت کا جواب دینے کے حوالے سے ایران کے مؤقف سے ہمدردی کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ اعلان بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے اپریل 2026 کے اواخر میں دیے گئے اس بیان کے فوراً بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بحرینی شہریت کوئی ایسا کاغذ نہیں جو محض عطا کر دیا جائے، بلکہ یہ ایک عہد و پیمان ہے، اور جو اس عہد کو توڑے گا وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے حق کو ساقط کر دے گا۔ اس بیان کو شہریت کی منسوخی کی دھمکی کے طور پر دیکھا گیا۔ بعد ازاں مئی 2026 کے آغاز میں حکومت نے 69 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے جاری کیے، جن میں بعض کے اہلِ خانہ بھی شامل تھے۔ اسی طرح پانچ افراد کو عمر قید اور مزید 24 افراد کو پانچ سے دس سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان تمام افراد پر ایران کے ردِعمل کی حمایت یا تائید سے متعلق الزامات عائد کیے گئے تھے۔
مذہبی آزادیوں اور انسانی حقوق پر پابندیاں:
البحرانی کے مطابق یہ مہم صرف سکیورٹی پہلو تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کو بھی متاثر کیا ہے۔ تنظیم Americans for Democracy & Human Rights in Bahrain (ADHRB) نے مارچ 2026 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے دوران بحرین میں شیعہ مذہبی رسومات پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی مذمت کی۔ تنظیم نے کعبہ کے ماڈل اور دیگر مذہبی علامات کو ہٹانے، نیز المعامیر گاؤں میں مذہبی تقریبات میں شرکت کرنے والوں کی طلبی اور گرفتاریوں کی نشاندہی کی۔ انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق یہ اقدامات کوئی نئی بات نہیں بلکہ 2011ء سے شیعہ اکثریتی آبادی کے حقوق پر جاری دباؤ کا تسلسل ہیں، جن میں مساجد کی بندش، نمازِ جمعہ پر پابندیاں اور مذہبی مناسبات کے انعقاد میں رکاوٹیں شامل ہیں۔
سیاسی اور قانونی پہلو:
البحرانی کا کہنا ہے کہ موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔
علاقائی حالات سے فائدہ اٹھانے کی عوام دشمن پالیسی:
البحرانی نے مزید لکھا کہ یہ داخلی مہم خطے میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل ایک جانب اور ایران دوسری جانب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، جو فروری 2026 میں مسلح تصادم تک جا پہنچی۔ ان کے مطابق بحرینی حکومت اس ماحول کو داخلی سکیورٹی کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور ایران کے حامی سمجھے جانے والے کسی بھی عوامی یا مذہبی رجحان کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل ایک نئی علاقائی سکیورٹی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کی بنیاد اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی، ایران کے ساتھ سیاسی و سکیورٹی مخالفت اور اس مؤقف سے اختلاف رکھنے والی عوامی یا مذہبی سرگرمیوں کو جرم قرار دینے پر رکھی گئی ہے۔
چند تجاویز:
البحرانی کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے یا بیرونی فریقوں سے تعلقات کے نام پر بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانا انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں، خصوصاً مذہبی آزادی، آزادیِ عقیدہ اور حقِ شہریت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مذہبی شناخت کو سکیورٹی خطرے سے جوڑنے کا عمل خوف اور عدم استحکام کی فضا پیدا کرتا ہے اور بحرینی معاشرے کے سماجی تانے بانے کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ البحرانی نے سفارشات پیش کی ہیں کہ من مانی گرفتاریوں اور شہریت کی منسوخی کا فوری خاتمہ کیا جائے، جن شہریوں کی شہریت منسوخ کی گئی ہے، انہیں ان کا حق واپس دیا جائے، مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کا مکمل احترام کیا جائے، شیعہ مذہبی شعائر اور رسومات پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، بحرین اپنے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں اور ذمہ داریوں کی پابندی کرے، معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت سے ایک جامع قومی مکالمہ شروع کیا جائے تاکہ کشیدگی کے اسباب کا جائزہ لے کر قومی مفاہمت کی راہ ہموار کی جا سکے، مضمون کے اختتام پر البحرانی نے زور دیا کہ پائیدار استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے جامع اور بامعنی قومی مذاکرات ناگزیر ہیں۔