نیتن یاہو نے دوحہ حملے پر معافی مانگی اور دوبارہ حملہ نہ کرنے کا وعدہ کیا، وزارت خارجہ قطر
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
قطر کی وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے دوحہ پر حالیہ فضائی حملے پر معذرت کے ردعمل میں بیان جاری کیا ہے۔
وزارت کے مطابق نیتن یاہو نے اس حملے پر معافی مانگی ہے جس میں قطری شہری بدرالدوسری جاں بحق ہوئے تھے۔ ترجمان نے تصدیق کی کہ امریکی صدر سے ملاقات کے دوران نیتن یاہو نے قطری وزیراعظم کو فون کر کے معذرت کی۔
بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے قطر کی خودمختاری کو دوبارہ نشانہ نہ بنانے کی یقین دہانی کرائی، جبکہ امریکی صدر نے بھی وعدہ کیا کہ مستقبل میں اسرائیل کی جانب سے قطر پر کوئی جارحیت نہیں ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: نیتن یاہو
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔