برطانیہ:کئر اسٹارمر کی حکومت سیاسی بحران کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانیہ کے وزیرِاعظم اور لیبر پارٹی کے سربراہ کیئر اسٹارمر نے لیبر پارٹی کی سالانہ کانفرنس میں کہا ہے کہ پارٹی کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی لڑائی درپیش ہے۔ انہیں دائیں بازو کی نئی سیاسی جماعت ریفارم یوکے کا مقابلہ ہر حال میں کرنا ہوگا۔ اسٹارمرکی لیبر پارٹی جولائی 2024 میں 14 سال بعد لیبر پارٹی اقتدار میں آئی تھی،جو اب اندرونی اختلافات، حکومتی اسکینڈلز اور گرتی ہوئی مقبولیت کے باعث شدید دباؤ میں ہے۔ تازہ سروے کے مطابق ریفارم پارٹی لیبر سے 12 پوائنٹس آگے ہے جبکہ اسٹارمر کی عوامی مقبولیت 1977 ء سے کسی بھی برطانوی وزیراعظم کے لیے سب سے کم سطح پر پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہاکہ ہمیں ریفارم کا مقابلہ کرنا ہے اور انہیں شکست دینی ہے۔ اس کے اثرات نسلوں تک رہیں گے۔ اسٹارمر نے ریفارم کے مہاجرین کے خلاف سخت ویزا قوانین کو نسل پرستانہ قرار دیا اور کہا کہ یہ منصوبہ ملک کو توڑ دے گا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیراعظم کو داخلی مسائل کے ساتھ معاشی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔ برطانیہ کی سست معیشت کے باعث ٹیکس بڑھانے والا بجٹ متوقع ہے جبکہ حالیہ فیصلوں پر پارٹی کے بائیں بازو کے ارکان ناراض ہیں۔ ڈپٹی وزیراعظم اینجلا رینر کے استعفے اور واشنگٹن میں برطانیہ کے سفیر پیٹر مینڈلسن کو برطرف کرنے کے فیصلے نے اسٹارمر کی قیادت پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس سے قبل ایک کانفرنس میں آسٹریلیا کے وزیرِاعظم انتھونی البانی نے اسٹارمر کی حمایت میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مشکل راستہ ہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں آگے لے جاتا ہے۔ اسٹارمر آج اپنا کلیدی خطاب کریں گے جہاں وہ آئندہ الیکشن کو لیبر پارٹی اورریفارم کے درمیان معرکہ قرار دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لیبر پارٹی اسٹارمر کی
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔