حماس نے امریکی صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے میں ترمیم کا مطالبہ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
حماس نے امریکی صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے میں ترمیم کا مطالبہ کر دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 1 October, 2025 سب نیوز
غزہ(سب نیوز) فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بعض شقوں میں ترمیم کا مطالبہ کر دیا ہے۔
فلسطینی ذرائع کے مطابق حماس اسرائیل کے مکمل انخلا اور رہنماں کے قتل نہ کیے جانے کی بین الاقوامی ضمانتیں چاہتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ حماس کو باضابطہ جواب دینے کے لیے دو سے تین دن درکار ہیں۔حماس کے مذاکرات کاروں نے حالیہ دنوں میں دوحا میں ترک، مصری اور قطری حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ ان مذاکرات میں غیر مسلح کیے جانے کی شق سب سے زیادہ متنازع قرار دی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ کے لیے 20 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا تھا، جس کے تحت حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کیا جانا ہے اور انہیں مستقبل کی حکومت میں کوئی کردار نہیں دیا جائے گا، تاہم پرامن رہنے والوں کو عام معافی دینے کی تجویز دی گئی ہے۔اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے بھی اس منصوبے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلی فوج غزہ کے بیشتر حصوں میں بدستور موجود رہے گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرخضدار میں فورسز کا آپریشن، خواتین کے کپڑوں اور برقع میں ملبوس 4دہشت گرد گرفتار، اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد خضدار میں فورسز کا آپریشن، خواتین کے کپڑوں اور برقع میں ملبوس 4دہشت گرد گرفتار، اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریٹریشن کے تحت 38ویں سینئیر مینجمنٹ کورس کے فیکلٹی و زیر تربیت افسران کا سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھارتی کرکٹ بورڈ کا دبئی میں محسن نقوی کے خلاف چوری کا مقدمہ درج کرانے پر غور پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے رہنمائوں کی اسپیکر سے ملاقات ، دونوں جماعتوں کا لفظی جنگ بند کرنے پر اتفاق نومئی کے 11مقدمات پر فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی سے ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر جمال بکر عبداللہ کی الوداعی ملاقاتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: امریکی صدر
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔