ٹاﺅن میو نسپل کارپوریشن لانڈھی کے چیئرمین عبدالجمیل خان کا روزنامہ جسارت کے دفتر کا تفصیلی دورہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی( رپورٹ:منیر عقیل انصاری) ٹاﺅن میو نسپل کارپوریشن لانڈھی کے چیئرمین عبدالجمیل خان کا جسارت کے دفتر کا تفصیلی دورہ کیا ہے۔
جسارت کے دورے کے موقعے پر عبدالجمیل خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جسارت سے بطور قاری میرا پرانا رشتہ ہے اور روزنامہ جسارت کا معیار ، خبروں کا چناؤ، ادارتی انتخاب کا کوئی ثانی نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ جسارت اپنی روایت کے مطابق آج بھی حق اور سچ کی آواز ہے اور عام آدمی کی آواز اقتدار کے ایوانوں تک پہنچاتا ہے۔
لانڈھی ٹاﺅن کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ جسارت کی خصوصیات میں شامل ہے کہ یہاں سے ہو کر گزرنے والے صحافیوں نے بڑے اداروں میں بہترین مقام حاصل کیا ہے، روزنامہ جسارت کراچی سمیت پاکستان کے دیگر شہروں سے شائع ہونے والا ایک مشہور روزنامہ ہے۔ جسارت کی اشاعت 1970ءمیں شروع ہوئی تھی اور آج جسارت نے ترقی کے منازل طے کرتے ہوئے جسارت ڈیجیٹل کا آغاز کردیا ہے یہ صحافتی میدان میں خوش آئندہ ہے اس سے نوجوانوں میں سیکھنے کے موقعے سامنے آئے گے۔ مجھے امید ہے کہ صحافتی میدان میں جسارت مزید ترقی کی منازل طے کرے گا اور مظلوموں کی آواز بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ان چند صحافتی اداروں میں جسارت سر فہرست ہے جنہوں نے زرد صحافت کا قلع قمع کیا ہے۔
عبدالجمیل خان کا کہنا تھا کہ میں آزادی صحافت پر یقین رکھتا ہوں اور آج فلسطینی عوام پر جس طرح کی اسرائیلی جارحیت جاری ہے اس حوالے سے جسارت اور اس کے ڈیجیٹل میڈیا نے جس طرح فلسطینی عوام پر اسرائیلی مظالم کو دنیا کے سامنے عیاں کیا ہے وہ قابل ستائش عمل ہے۔
روزنامہ جسارت کراچی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سید طاہر اکبر نے ٹاﺅن چیئرمین کو جسارت ڈیجیٹل اسٹوڈیو، روزنامہ جسارت کراچی کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کرایا اور جسارت کے کارکنان کا تعارف پیش کیا۔اس موقعے پر روزنامہ جسارت کراچی کے چیف ایڈیٹر شاہنواز فاروقی، چیف آپریٹنگ آفیسر سید طاہر اکبر، ویب ایڈیٹر نذیر الحسن، نیوز ایڈیٹر توصیف جاوید، چیف رپورٹر قاضی جاوید باسط، ڈپٹی چیف واجد حسین انصاری، سینئر رپورٹرزمنیر عقیل انصاری، محمد علی فاروق، نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کراچی اور معروف لیبر لیڈر محمد قاسم جمال سمیت دیگر بھی موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: روزنامہ جسارت کراچی عبدالجمیل خان جسارت کے کیا ہے
پڑھیں:
ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔
ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟
یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔
چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔
آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔
’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔
ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔
بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔
قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔
سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔
دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔
50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹرچند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔
بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔
یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیےایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔
عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟
مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘
ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل