حادثات وواقعات میں 5افراد جاں بحق‘11زخمی
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات واقعات میں 5 افراد جاںبحق ہوگئے دیگر واقعات میں11 افراد زخمی ہوئے ۔ تفصیلات کے مطابق منگھوپیر تھانے کی حدود اورنگی ٹاؤن الطاف نگر 100 فٹ روڈ کے قریب فائرنگ کے نتیجے میں جاںبحق ہوگیا ،مقتول کی شناخت30سالہ احسان ولد محمد شاہد کے نام سے ہوئی۔ شیرشاہ ہنڈا کمپنی آٹا مل کے قریب کام کے دوران ٹرک کے نیچے دب کر ایک شخص جاں بحق اور دوسرا شدید زخمی ہوا ۔جاںبحق شخص کی شناخت 30سالہ نظام ولد عباس اور زخمی کی شناخت 25 سالہ زبیر ولد غلام حیدر کے ناموں سے ہوئی۔ شفیق موڑ سے سہراب گوٹھ جاتے ہوئے افروز مل کے قریب ٹریفک حادثے میں ایک شخص جاں بحق ایک زخمی ہوگیا ۔ ملیر چیک پوسٹ نمبر 05 کے قریب ٹریفک حادثے میں خاتون جاں بحق ہوگئی ۔حب چوکی چیرمین کانٹا کے قریب ٹریفک حادثے میں 50سالہ شخص جاں بحق ہوگیا ۔ دوسری جانب جیکسن کیماڑی نیٹی جیٹی پل گیٹ نمبر 1 لڑائی جھگڑے میں 40 سالہ عرفان زخمی ہوا ۔ شاہ لطیف ٹاؤن لانڈھی بھینس کالونی آگ میں جھلس کر 6 سالہ صنم ۔ڈیفنس قیوم آباد نذد زبیر مسجد کے قریب رکشہ کی ٹکر ،12 سالہ بچہ شدید۔ خواجہ اجمیر نگری نارتھ کراچی سیکٹر 5B 1 نذد پیلا اسکول کے قریب تیز دھار آلے کے وار سے 32 سالہ ارسلان ولد محمد ایاز ۔ گارڈن کے علاقے مچھلی مارکیٹ فاطمہ مسجد کے قریب فائرنگ سے 30سالہ شاہد ولد عبدالرزاق ، یوسف پلازہ تھانے کی حدود گلشن اقبال سے سہراب گوٹھ آتے ہوئے نزد pso پمپ کے قریب فائرنگ سے 25سالہ محمد اسامہ ولد محمد سرفراز ، سہراب گوٹھ کے علاقے سپر ہائی وے جمالی گوٹھ تاجی خان مسجد کے قریب جھگڑے میں فائرنگ سے 40سالہ ہاشم ولد محمد عالم ، اورنگی ٹاون تھانے کی حدود قصبہ MPR کالونی الشفاء ہسپتال کے قریب فائرنگ سے 25سالہ محسن ولد احسان اللہ ، گلزار ہجری اسکیم 33 میں گولی لگنے سے 26 سالہ شخص زخمی ہوگیا ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے قریب فائرنگ فائرنگ سے ولد محمد
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔