9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمران خان کا جیل ٹرائل دوبارہ شروع
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی: پنجاب حکومت نے 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی ائی) اور سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف جیل ٹرائل بحال کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد کیس کی سماعت کل اڈیالہ جیل میں ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، پنجاب حکومت نے جیل ٹرائل کی بحالی سے متعلق باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے بعد سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے راولپنڈی پولیس کو اضافی سیکیورٹی انتظامات کے لیے تحریری مراسلہ بھی بھیج دیا ہے۔
یاد رہے کہ حکومتِ پنجاب نے 15 ستمبر کو جی ایچ کیو حملہ کیس کا ٹرائل جیل سے عدالت منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے تحت عمران خان کو انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) راولپنڈی میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا تھا۔
تاہم بعد ازاں پنجاب حکومت نے ٹرائل کی منتقلی کا نوٹیفکیشن واپس لیتے ہوئے دوبارہ جیل ٹرائل بحال کر دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جیل میں سماعت کے موقع پر سخت سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے پولیس اور جیل حکام کو خصوصی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، جب کہ مقدمے کی کارروائی انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت آگے بڑھائی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جیل ٹرائل
پڑھیں:
سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس، پنجاب حکومت کے فیصلے پر وفاقی آئینی عدالت کا سخت اظہارِ تشویش
وفاقی آئینی عدالت میں سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس کی سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے رائلٹی کے نفاذ کے طریقۂ کار پر عدالت نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جس میں مختلف قانونی نکات اور رائلٹی کے دائرہ کار پر تفصیلی ریمارکس دیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا
سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ رائلٹی کا نفاذ معدنیات پر ہونا چاہیے نہ کہ سیمنٹ کی تیار شدہ بوری پر، کیونکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی عائد کرنے سے اس کا بوجھ بالآخر عوام پر منتقل ہوگا۔ جسٹس روزی خان نے کہا کہ فیکٹری مالکان کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ رائلٹی کا اثر عام صارف تک پہنچتا ہے، جس سے سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ حکومت فینش پروڈکٹ پر رائلٹی کیسے وصول کر سکتی ہے اور کیا اس کے نتیجے میں سیمنٹ کی بوری کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اپنے لاء افسران کو اس معاملے پر واضح ہدایات دینی چاہئیں کہ اس نوعیت کا نفاذ قانونی طور پر مناسب نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ
عدالت میں وکیل احسن بھون نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت صرف معدنیات پر رائلٹی وصول کر سکتی ہے، جبکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی دراصل ایک بالواسطہ ٹیکس کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیمنٹ کی بوری پر رائلٹی کا نفاذ دراصل ڈبل ایکسائز ٹیکس کی وصولی کے برابر ہے۔
دورانِ سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے حکومت سے مزید ہدایات لینے کے لیے مہلت دینے کی استدعا کی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے مزید وقت فراہم کر دیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب حکومت رائلٹی کیس سیمنٹ کیس وفاقی آئینی عدالت