بھارت اور نیپال میں لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتیں 63ہوگئیں
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی ؍ کٹھ منڈو(انٹرنیشنل ڈیسک) نیپال اور پڑوسی ملک بھارت میں طوفانی بارشوں کے باعث ہونے والے لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب سے 60 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔ حکام کے مطابق امدادی ٹیمیں دور دراز پہاڑی علاقوں میں پھنسے افراد تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔خبر رساں اداروں کے مطابق نیپال میں جمعہ کے روز سے جاری شدید بارش کے باعث دریاؤں میں طغیانی ہے اور کئی علاقے زیر آب آگئے ہیں۔ نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کی ترجمان شانتی مہت نے بتایا کہ اب تک 43 افراد ہلاک اور 5 لاپتا ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان مشرقی ضلع ایلم میں ہوا جہاں 37 افراد لینڈ سلائیڈز کی نذر ہوگئے۔ ضلعی افسر سنیتا نیپال نے بتایا کہ رات بھر جاری رہنے والی بارش سے لینڈ سلائیڈنگ ہوئیں اور کئی سڑکیں بند ہیں، اس لیے امدادی کارکن پیدل راستوں سے متاثرہ علاقوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دارالحکومت کٹھ منڈو میں بھی دریاؤں کا پانی رہائشی علاقوں میں داخل ہوگیا ، فوجی اہلکار ہیلی کاپٹروں اور کشتیوں کے ذریعے امدادی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔ وزیراعظم سوشیلا کرکی نے قوم سے خطاب میں کہا کہ حکومت ریسکیو اور ریلیف کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ دوسری جانب بھارت کی ریاست مغربی بنگال کے ضلع دارجلنگ میں طوفانی بارش کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈز میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہوگئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ریسکیو اہلکاررسیوں کے ذریعے علاقوں تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تیز بہاؤ والے پانی نے پلوں اور سڑکوں کو تباہ کر دیا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دارجلنگ اور اس کے گردونواح میں صورتِ حال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ وہاں شدید بارش اور لینڈ سلائیڈز کے باعث حالات سنگین ہیں۔ واضح رہے کہ ہر سال جون سے ستمبر تک مون سون کی بارشیں جنوبی ایشیا میں تباہی مچاتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے باعث
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔