Jasarat News:
2026-07-24@16:18:45 GMT

بھارت اور نیپال میں لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتیں 63ہوگئیں

اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251007-06-13
نئی دہلی ؍ کٹھ منڈو(انٹرنیشنل ڈیسک) نیپال اور پڑوسی ملک بھارت میں طوفانی بارشوں کے باعث ہونے والے لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب سے 60 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔ حکام کے مطابق امدادی ٹیمیں دور دراز پہاڑی علاقوں میں پھنسے افراد تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔خبر رساں اداروں کے مطابق نیپال میں جمعہ کے روز سے جاری شدید بارش کے باعث دریاؤں میں طغیانی ہے اور کئی علاقے زیر آب آگئے ہیں۔ نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کی ترجمان شانتی مہت نے بتایا کہ اب تک 43 افراد ہلاک اور 5 لاپتا ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان مشرقی ضلع ایلم میں ہوا جہاں 37 افراد لینڈ سلائیڈز کی نذر ہوگئے۔ ضلعی افسر سنیتا نیپال نے بتایا کہ رات بھر جاری رہنے والی بارش سے لینڈ سلائیڈنگ ہوئیں اور کئی سڑکیں بند ہیں، اس لیے امدادی کارکن پیدل راستوں سے متاثرہ علاقوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دارالحکومت کٹھ منڈو میں بھی دریاؤں کا پانی رہائشی علاقوں میں داخل ہوگیا ، فوجی اہلکار ہیلی کاپٹروں اور کشتیوں کے ذریعے امدادی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔ وزیراعظم سوشیلا کرکی نے قوم سے خطاب میں کہا کہ حکومت ریسکیو اور ریلیف کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ دوسری جانب بھارت کی ریاست مغربی بنگال کے ضلع دارجلنگ میں طوفانی بارش کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈز میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہوگئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ریسکیو اہلکاررسیوں کے ذریعے علاقوں تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تیز بہاؤ والے پانی نے پلوں اور سڑکوں کو تباہ کر دیا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دارجلنگ اور اس کے گردونواح میں صورتِ حال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ وہاں شدید بارش اور لینڈ سلائیڈز کے باعث حالات سنگین ہیں۔ واضح رہے کہ ہر سال جون سے ستمبر تک مون سون کی بارشیں جنوبی ایشیا میں تباہی مچاتی ہیں۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے باعث

پڑھیں:

موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل

لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی سمیت ملک کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی، اربن فلڈنگ کا خدشہ
  • آسام میں سیلاب سے 50 افراد ہلاک، 7 لاکھ بےگھر
  • مون سون کا طاقتور سپیل جاری، مختلف علاقوں میں آج بھی بارشوں کی پیشگوئی
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل