رواں سال کا پہلا ‘سپر مون’ آج نظر آئےگا، کیا پاکستان میں نظارہ ممکن ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
رواں سال کا پہلا سپر مون آج آسمان پر دیکھا جا سکے گا۔
اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (اسپارکو) کے ترجمان کے مطابق سپر مون کے وقت چاند زمین سے تقریباً 2 لاکھ 24 ہزار میل کے فاصلے پر ہوگا، جس کے باعث یہ ایک معمول کے مکمل چاند کے مقابلے میں 6.
یہ شاندار منظر پاکستان میں بھی دیکھا جا سکے گا۔ سپر مون سورج غروب ہونے کے فوراً بعد مشرقی افق پر طلوع ہوگا اور طلوعِ آفتاب سے قبل مغربی افق میں غروب ہو جائے گا۔
اسپارکو کے مطابق اس سال مزید دو سپر مونز بھی دکھائی دیں گے۔ سال کا سب سے روشن سپر مون 5 نومبر 2025 کو ہوگا، جبکہ تیسرا سپر مون 5 دسمبر کو دیکھا جا سکے گا۔
ماہرین فلکیات کے مطابق سپر مون اُس وقت ظاہر ہوتا ہے جب چاند اپنے مدار میں گردش کرتے ہوئے زمین کے سب سے قریب آ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ معمول سے زیادہ بڑا اور روشن نظر آتا ہے، اسی وجہ سے اسے “سپر مون” کہا جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔