فلسطین کے حق میں مظاہروں کو محدود کرنے کے اعلان پر شبانہ محمود پر برطانیہ بھر میں شدید تنقید
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
لندن: پاکستان نژاد برطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود کو فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں سے متعلق بیان دینے پر شدید عوامی اور سیاسی تنقید کا سامنا ہے۔
شبانہ محمود نے اعلان کیا کہ وہ پولیس کو مظاہرین سے نمٹنے کے لیے اضافی اختیارات دینے جا رہی ہیں، تاکہ بار بار ہونے والے احتجاجات کو محدود کیا جا سکے، کیونکہ ان کے مطابق ان مظاہروں نے یہودی برادری میں خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔
Protest is a fundamental right.
But this right must not be used to intimidate or spread fear amongst communities.
I will grant police forces new powers to put conditions on repeat protests. pic.twitter.com/QgYvDuWn4e — Shabana Mahmood MP (@ShabanaMahmood) October 5, 2025
وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ اقدام مانچسٹر کی ایک سنیگاگ پر حملے کے بعد اٹھایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی قانون سازی سے پولیس کو ایسے مظاہروں پر پابندیاں یا شرائط عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوگا جو عوامی بے چینی یا خلل کا باعث بنیں۔
البتہ اس اعلان کے بعد برطانوی سیاستدانوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عوامی شخصیات نے حکومت کے اس فیصلے کو آزادیِ اظہار پر حملہ قرار دیا۔
Not content with locking up pensioners and priests for opposing the ban on Palestine Action, Shabana Mahmood now wants to ban protests in solidarity with Palestine.
She’s violating our civil liberties and the right to protest — all while supporting the flow of arms to the…
رکنِ پارلیمنٹ زارا سلطان نے الزام لگایا کہ شبانہ محمود دراصل فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ شہری آزادیوں کی پامالی کر رہی ہیں اور ساتھ ہی اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے کی حمایت بھی کر رہی ہیں۔
گرین پارٹی کے رہنما زیک پولانسکی نے بیان دیا کہ شبانہ محمود کا یہ اقدام جمہوری آزادیوں کے خلاف ہے، کیونکہ پرامن احتجاج برطانوی جمہوریت کی بنیاد ہے۔
Shabana Mahmood before she was given access to the corridors of power. https://t.co/Hz8Ft2lpa8
— Tez (@tezilyas) October 5, 2025برطانوی اداکار تز الیاس نے سوشل میڈیا پر 2014 کی ایک تصویر شیئر کی، جس میں شبانہ محمود خود فلسطین کے حق میں مظاہرے میں شریک نظر آ رہی ہیں، اور لکھا: "جب وہ اقتدار میں نہیں تھیں، تب وہ خود احتجاج کر رہی تھیں۔"
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فلسطین کے حق میں رہی ہیں کر رہی
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔