لندن: پاکستان نژاد برطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود کو فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں سے متعلق بیان دینے پر شدید عوامی اور سیاسی تنقید کا سامنا ہے۔

شبانہ محمود نے اعلان کیا کہ وہ پولیس کو مظاہرین سے نمٹنے کے لیے اضافی اختیارات دینے جا رہی ہیں، تاکہ بار بار ہونے والے احتجاجات کو محدود کیا جا سکے، کیونکہ ان کے مطابق ان مظاہروں نے یہودی برادری میں خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔

Protest is a fundamental right.



But this right must not be used to intimidate or spread fear amongst communities.

I will grant police forces new powers to put conditions on repeat protests. pic.twitter.com/QgYvDuWn4e

— Shabana Mahmood MP (@ShabanaMahmood) October 5, 2025

وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ اقدام مانچسٹر کی ایک سنیگاگ پر حملے کے بعد اٹھایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی قانون سازی سے پولیس کو ایسے مظاہروں پر پابندیاں یا شرائط عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوگا جو عوامی بے چینی یا خلل کا باعث بنیں۔

البتہ اس اعلان کے بعد برطانوی سیاستدانوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عوامی شخصیات نے حکومت کے اس فیصلے کو آزادیِ اظہار پر حملہ قرار دیا۔

Not content with locking up pensioners and priests for opposing the ban on Palestine Action, Shabana Mahmood now wants to ban protests in solidarity with Palestine.

She’s violating our civil liberties and the right to protest — all while supporting the flow of arms to the…

— Zarah Sultana MP (@zarahsultana) October 6, 2025

رکنِ پارلیمنٹ زارا سلطان نے الزام لگایا کہ شبانہ محمود دراصل فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ شہری آزادیوں کی پامالی کر رہی ہیں اور ساتھ ہی اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے کی حمایت بھی کر رہی ہیں۔

گرین پارٹی کے رہنما زیک پولانسکی نے بیان دیا کہ شبانہ محمود کا یہ اقدام جمہوری آزادیوں کے خلاف ہے، کیونکہ پرامن احتجاج برطانوی جمہوریت کی بنیاد ہے۔

Shabana Mahmood before she was given access to the corridors of power. https://t.co/Hz8Ft2lpa8

— Tez (@tezilyas) October 5, 2025

برطانوی اداکار تز الیاس نے سوشل میڈیا پر 2014 کی ایک تصویر شیئر کی، جس میں شبانہ محمود خود فلسطین کے حق میں مظاہرے میں شریک نظر آ رہی ہیں، اور لکھا: "جب وہ اقتدار میں نہیں تھیں، تب وہ خود احتجاج کر رہی تھیں۔"

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فلسطین کے حق میں رہی ہیں کر رہی

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ

 ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔

 سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی