علی امین گنڈا پور 2 سال سے کم مدت تک وزارت اعلیٰ کے عہدے پر رہنے والے پانچویں وزیراعلیٰ کا ریکارڈ اپنے نام کرگئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق علی امین گنڈاپور ایک سال سات ماہ قبل وزیراعلی خیبرپختونخوا  بنے، گزشتہ سال عام انتخابات میں کامیابی کے بعد انھیں وزیراعلی کے لیے نامزد کیا گیا۔

گنڈا پور یکم مارچ 2024 کو وزیراعلی منتخب ہوئے اور دو مارچ کو انہوں نے وزیراعلی کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ وہ دو سال سے کم مدت تک وزیراعلی رہنے والے پانچویں وزیراعلی ہیں۔

خیبرپختونخوا میں سب سے کم مدت کے وزیراعلیٰ ن لیگ کے پیر صابر شاہ تھے جو چار ماہ پانچ دن عہدے پر فائز رہے، 20 اکتوبر1993 سے 25 فروری 1994 تک وزیراعلی رہے۔

اس کے بعد  پیپلزپارٹی کے آفتاب احمد خان شیر پاو ایک سال سات ماہ 25 دن  2 تک وزیراعلی رہے وہ دو دسمبر 1988 سے 7 اگست 1990 تک وزیراعلی رہے۔

پھر جے یو آئی کے مفتی محمود( مرحوم) 11 ماہ 15 دن تک وزیراعلی رہے وہ یکم مارچ 1972 سے 15 فروری 1973 وزارت کے عہدے پر فائر رہے۔

چوتھے نمبر پر  پیپلزپارٹی کے سردار عنایت اللہ گنڈاپور ایک سال 10 ماہ 17 دن تک وزیراعلی رہے وہ  29 اپریل 1973 سے 16 فروری 1975 تک وزیراعلی رہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تک وزیراعلی رہے

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں